فیفا ورلڈ کپ ٹرافی
دنیا میں اگر کسی کھیل کی سب سے زیادہ پہچانی جانے والی علامت کا ذکر کیا جائے تو فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کا نام سرفہرست آتا ہے۔ ہر چار سال بعد دنیا کی بہترین قومی فٹ بال ٹیمیں اس ٹرافی کو اپنے نام کرنے کے لیے میدان میں اْترتی ہیں۔ یہ صرف سونے سے بنی ایک خوبصورت ٹرافی نہیں بلکہ محنت، عزم، قومی وقار اور کھیلوں کی اعلیٰ ترین کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ لاکھوں کھلاڑی بچپن سے اس خواب کے ساتھ فٹ بال کھیلنا شروع کرتے ہیں کہ ایک دن وہ اس تاریخی ٹرافی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھائیں گے۔
فیفا ورلڈ کپ کا آغاز 1930ء میں ہوا، لیکن اس وقت جو ٹرافی فاتح ٹیم کو دی جاتی تھی وہ موجودہ ٹرافی سے مختلف تھی۔ پہلی ٹرافی کا نام جولس ریمے ٹرافی (Jules Rimet Trophy) تھا، جو فیفا کے سابق صدر جولس ریمے کے اعزاز میں رکھا گیا تھا۔ جولس ریمے وہ شخصیت تھے جنہوں نے عالمی سطح پر فٹ بال ورلڈ کپ کے انعقاد کا خواب حقیقت میں بدلنے میں اہم کردار ادا کیا۔ یہ ٹرافی فرانسیسی مجسمہ ساز ایبل لافلورنے ڈیزائن کی تھی۔ اس میں فتح کی یونانی دیوی ”نائکی“ کو دکھایا گیا تھا، جو دونوں ہاتھوں سے ایک جام اٹھائے ہوئے تھیں۔ یہ ٹرافی تقریباً 3.8 کلوگرام وزنی تھی اور سونے کی تہہ سے مزین تھی۔
جولس ریمے ٹرافی کی تاریخ کئی دلچسپ واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ 1966ء کے ورلڈ کپ سے قبل یہ ٹرافی انگلینڈ میں ایک نمائش کے دوران چوری ہوگئی تھی، جس سے دنیا بھر میں تشویش پھیل گئی۔ خوش قسمتی سے چند دن بعد ”پِکلز“نامی ایک پالتو کتے نے اسے ایک باغ میں اخبار میں لپٹی ہوئی حالت میں ڈھونڈ نکالا، جس کے بعد یہ واقعہ فٹ بال کی تاریخ کا ایک یادگار قصہ بن گیا۔ بعد ازاں 1970ء میں برازیل نے تیسری مرتبہ ورلڈ کپ جیت کر اس ٹرافی کو مستقل طور پر اپنے پاس رکھنے کا حق حاصل کر لیا، لیکن افسوس کہ 1983ء میں یہ ٹرافی دوبارہ چوری ہوگئی اور آج تک برآمد نہیں ہو سکی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ممکنہ طور پر اسے پگھلا دیا گیا تھا۔
1974ء سے فیفا نے ایک نئی ٹرافی متعارف کروائی، جو آج تک استعمال ہو رہی ہے۔ اس شاندار ٹرافی کو اطالوی مجسمہ ساز سلویو گازانیگا (Silvio Gazzaniga) نے ڈیزائن کیا تھا۔ انہوں نے اپنے ڈیزائن کے بارے میں کہا تھا کہ وہ ایسی علامت تخلیق کرنا چاہتے تھے جو فتح، انسانی قوت اور عالمی اتحادکی نمائندگی کرے۔ ان کا ڈیزائن منتخب ہونے کے بعد دنیا بھر میں یہ ٹرافی فٹ بال کی سب سے بڑی پہچان بن گئی۔موجودہ فیفا ورلڈ کپ ٹرافی خالص سونے کی نہیں بلکہ 18 قیراط سونے سے تیار کی گئی ہے۔ اس کی اونچائی تقریباً 36.8 سینٹی میٹر، وزن 6.175 کلوگرام اور اس کے نچلے حصے میں دو تہوں والا سبز رنگ کا میلاچائٹ (Malachite) پتھر نصب ہے۔ اس کا منفرد ڈیزائن دو انسانی پیکروں کو دکھاتا ہے جو اپنے ہاتھوں سے زمین کے گلوب کو بلند کیے ہوئے ہیں۔ یہ منظر اس بات کی علامت ہے کہ فٹ بال پوری دنیا کو ایک دوسرے سے جوڑنے والا کھیل ہے۔
بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیتنے والی ٹیم اصل ٹرافی ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہیں رکھ سکتی۔ فیفا کے موجودہ قوانین کے مطابق اصل ٹرافی فیفا کی ملکیت رہتی ہے۔ چیمپئن ٹیم اختتامی تقریب کے دوران اصل ٹرافی اٹھاتی ہے، لیکن بعد میں اسے فیفا کو واپس کرنا ہوتا ہے۔ اس کے بدلے فاتح ٹیم کو سونے کی تہہ چڑھی ہوئی ایک اعلیٰ معیار کی نقل (Replica Trophy) دی جاتی ہے، جسے وہ مستقل طور پر اپنے پاس رکھ سکتی ہے۔ اس قانون کا مقصد دنیا کی اس قیمتی کھیلوں کی میراث کو محفوظ رکھنا ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کی تیاری بھی نہایت احتیاط سے کی جاتی ہے۔ اسے اٹلی میں مہارت رکھنے والے کاریگر تیار کرتے ہیں، جبکہ ہر ورلڈ کپ کے بعد فاتح ملک کا نام اور سال ٹرافی کے نچلے حصے پر کندہ کیاجاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نام نیچے کی جانب لکھے جاتے ہیں، اس لیے سامنے سے دیکھنے پر وہ نظر نہیں آتے۔ موجودہ ٹرافی پر مستقبل کے کئی ورلڈ کپ فاتحین کے نام درج کرنے کی گنجائش موجود ہے۔
فیفا ورلڈ کپ ٹرافی کو چھونے کی اجازت ہر کسی کو نہیں ہوتی۔ روایتی طور پر صرف ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑی، موجودہ سربراہانِ مملکت اور فیفا کے اعلیٰ عہدیدار ہی اصل ٹرافی کو ہاتھ لگا سکتے ہیں۔ٹرافی کی انشورنس کروڑوں ڈالر مالیت کی ہے، کیونکہ اسے دنیا کی سب سے قیمتی کھیلوں کی ٹرافیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔فیفا ورلڈ کپ ٹرافی صرف ایک انعام نہیں بلکہ کروڑوں لوگوں کے جذبات، خوابوں اور اْمیدوں کی علامت ہے۔ جب کسی ملک کا کپتان اسے فضا میں بلند کرتا ہے تو وہ لمحہ نہ صرف اس ٹیم بلکہ پوری قوم کے لیے فخر، خوشی اور تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹرافی دنیا کی سب سے قیمتی اور باوقار کھیلوں کی ٹرافیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ اس کی خوبصورتی، منفرد ڈیزائن، دلچسپ تاریخ اور عالمی اہمیت اسے صرف فٹ بال ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے کھیلوں کی ایک لازوال علامت بنا دیتی ہے۔
