سیترے، ماوے قبیلہ

 بہادری کے امتحان کی ایک حیران کن روایت
بہادری کے امتحان کی ایک حیران کن روایت

دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے قبائل موجود ہیں جن کی روایات نہ صرف منفرد بلکہ انسانی برداشت اور ہمت کی اعلیٰ مثال بھی پیش کرتی ہیں۔ انہی میں سے ایک نمایاں نام’    ’سیترے“ ماوے قبیلہ کا ہے، جو برازیل کے گھنے جنگلات میں آباد ہے۔ اس قبیلے کی ایک خاص رسم دنیا بھر میں اپنی شدت اور انوکھے انداز کی وجہ سے مشہور ہے، جسے لڑکوں کے مرد بننے کا امتحان سمجھا جاتا ہے۔
یہ رسم دراصل ایک ”رائٹ آف پیسیج“(بلوغت میں داخلے کی علامت) ہے، جس کے ذریعے ایک لڑکے کو معاشرے میں بالغ مرد کے طور پر قبول کیا جاتا ہے۔ اس رسم کا بنیادی مقصد یہ جانچنا ہوتا ہے کہ آیا لڑکا جسمانی اور ذہنی طور پر اتنا مضبوط ہو چکا ہے کہ وہ قبیلے کی ذمہ داریاں اٹھا سکے۔
اس رسم کا سب سے اہم اور حیران کن حصہ ”بْلٹ آنٹس“یعنی گولی جیسی تکلیف دینے والی چیونٹیوں کا استعمال ہے۔ یہ چیونٹیاں دنیا کے خطرناک ترین کیڑوں میں شمار ہوتی ہیں، جن کے ڈنک کو انسانی جسم پر گولی لگنے جیسی شدت کا درد قرار دیا جاتا ہے۔ ان چیونٹیوں کو خاص طریقے سے اکٹھا کیا جاتا ہے اور پھر انہیں بے ہوش کرنے کے بعد دستانوں کے اندر اس طرح رکھا جاتا ہے کہ ان کے ڈنک اندر کی طرف ہوں۔جب رسم کا وقت آتا ہے تو نوجوان لڑکے کو یہ دستانے پہنائے جاتے ہیں۔ جیسے ہی چیونٹیاں ہوش میں آتی ہیں، وہ بار بار ڈنک مارنا شروع کر دیتی ہیں۔ یہ درد نہایت شدید ہوتا ہے، اور کئی بار لڑکے بے ہوش ہونے کے قریب پہنچ جاتے ہیں، مگر انہیں ہمت کے ساتھ یہ تکلیف برداشت کرنی ہوتی ہے۔ اس دوران قبیلے کے لوگ مخصوص گیت گاتے ہیں اور رقص کرتے ہیں، تاکہ لڑکے کا حوصلہ بلند رہے اور وہ اس آزمائش کو مکمل کر سکے۔
یہ عمل صرف ایک بار نہیں بلکہ کئی مرتبہ دْہرایا جاتا ہے، بعض اوقات بیس بار تک۔ ہر بار لڑکے کو اسی تکلیف دہ مرحلے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس تسلسل کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف جسمانی طور پر مضبوط ہو بلکہ ذہنی طور پر بھی برداشت اور صبر کا مظاہرہ کرے۔
اس رسم کے پیچھے ایک گہرا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ سیترے،ماوے قبیلے کے لوگ یہ مانتے ہیں کہ زندگی میں مشکلات اور تکالیف کا سامنا کرنا ناگزیر ہے، اور ایک حقیقی مرد وہی ہوتا ہے جو ان مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرے۔ اس لیے وہ اپنے نوجوانوں کو بچپن سے ہی سخت حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیار کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ یہ رسم صرف جسمانی طاقت کا امتحان نہیں بلکہ عزت، وقار اور شناخت کا بھی معاملہ ہے۔ جو لڑکا اس آزمائش کو کامیابی سے مکمل کر لیتا ہے، اسے قبیلے میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اسے ایک بہادر اور قابل فرد سمجھا جاتا ہے۔اگرچہ جدید دنیا میں اس طرح کی رسومات کو بعض اوقات خطرناک یا غیر ضروری سمجھا جاتا ہے، مگر ان قبائل کے لیے یہ ان کی شناخت، روایت اور ثقافت کا اہم حصہ ہیں۔ یہ رسمیں صدیوں سے جاری ہیں اور نسل در نسل منتقل ہو رہی ہیں۔
 سیترے، ماوے قبیلے کی یہ روایت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر معاشرے کے اپنے اصول اور اقدار ہوتے ہیں۔ جو چیز ایک جگہ عجیب لگ سکتی ہے، وہ دوسری جگہ عزت اور فخر کی علامت ہو سکتی ہے۔ یہ رسم نہ صرف انسانی برداشت کی انتہا کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس بات کی بھی یاد دہانی کراتی ہے کہ ثقافتی تنوع ہی دنیا کو خوبصورت بناتا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail