جاپان میں قبرستان سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کا عقیدہ

جاپان میں قبرستان سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کا عقیدہ
جاپان میں قبرستان سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کا عقیدہ

دنیا کی ہر تہذیب میں ایسی روایات، عقائد اور رسم و رواج موجود ہیں جو نسل در نسل منتقل ہوتے آئے ہیں۔ ان میں سے بعض مذہبی تعلیمات پر مبنی ہوتے ہیں، جبکہ کچھ صرف عوامی عقائد یا لوک روایات کا حصہ ہوتے ہیں۔ جاپان، جو اپنی قدیم ثقافت، روایات اور جدید ترقی کے امتزاج کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے، وہاں بھی کئی ایسے دلچسپ عقائد پائے جاتے ہیں جنہوں نے صدیوں سے لوگوں کی روزمرہ زندگی پر اثر ڈالا ہے۔ انہی میں سے ایک معروف لوک عقیدہ یہ ہے کہ قبرستان کے پاس سے گزرتے وقت ہاتھوں کے انگوٹھوں کو جیب میں یا ہتھیلی کے اندر چھپا لینا چاہیے، کیونکہ اس سے انسان موت یا بدقسمتی سے محفوظ رہتا ہے۔یہ روایت جاپان کے تمام لوگوں کا عقیدہ نہیں اور نہ ہی اس کی کوئی سائنسی بنیاد موجود ہے، تاہم بعض خاندانوں اور بزرگوں میں آج بھی اسے ایک ثقافتی روایت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔اس عقیدے کو سمجھنے کے لیے جاپانی زبان اور ثقافت پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ 
جاپانی زبان میں انگوٹھے کو ”اویا یوبی“ (Oyayubi) کہا جاتا ہے، جس کا لفظی مطلب ”والدین کی انگلی“ ہے۔ جاپانی روایات میں انگوٹھا ماں اور باپ کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ دیگر انگلیاں خاندان کے دوسرے افراد کی نمائندگی کرتی ہیں۔اسی وجہ سے یہ تصور پیدا ہوا کہ اگر کوئی شخص قبرستان یا ایسی جگہ سے گزر رہا ہو جہاں موت سے متعلق ماحول موجود ہو، تو اسے اپنے انگوٹھوں کو چھپا لینا چاہیے تاکہ اس کے والدین ہر قسم کی آفت، بیماری یا موت کی نحوست سے محفوظ رہیں۔یہ عقیدہ دراصل والدین کی سلامتی اور لمبی عمر کے لیے نیک خواہشات کا ایک علامتی اظہار سمجھا جاتا ہے، نہ کہ کوئی سائنسی یا مذہبی حکم۔جاپان میں صدیوں تک یہ تصور پایا جاتا رہا کہ بعض مقامات، خصوصاً قبرستان، انسان کو زندگی اور موت کے بارے میں غور و فکر کی یاد دلاتے ہیں۔
 قدیم زمانے میں لوگ روحوں اور قدرتی قوتوں کے بارے میں مختلف عقائد رکھتے تھے، جن کی بنیاد پر احتیاطی رسومات انجام دی جاتی تھیں۔اسی پس منظر میں قبرستان سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو چھپانے کی روایت بھی وجود میں آئی۔ بزرگ اپنے بچوں کو یہ عمل کرنے کی تلقین کرتے تھے تاکہ وہ والدین کی حفاظت اور خاندان کی خیریت کے لیے دْعا اور احترام کا اظہار کر سکیں۔جدید جاپان ایک ترقی یافتہ اور سائنسی سوچ رکھنے والا ملک ہے، جہاں زیادہ تر لوگ ان روایات کو ثقافتی ورثہ سمجھتے ہیں۔ اگرچہ کچھ بزرگ افراد یا روایتی خاندان آج بھی قبرستان کے قریب سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کی روایت پر عمل کرتے ہیں، لیکن نوجوان نسل کی ایک بڑی تعداد اسے محض ایک دلچسپ لوک عقیدہ سمجھتی ہے۔اس کے باوجود جاپان میں قبرستانوں اور آباو اجداد کی قبروں کا احترام آج بھی معاشرتی اقدار کا اہم حصہ ہے۔ لوگ اپنے مرحوم رشتہ داروں کی قبروں پر باقاعدگی سے جاتے ہیں، صفائی کرتے ہیں، پھول چڑھاتے ہیں اور خاموشی سے دْعا یا یاد کا اظہار کرتے ہیں۔سائنسی اعتبار سے اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ قبرستان کے قریب انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے سے کسی شخص یا اس کے والدین کو موت یا بیماری سے تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ انسانی صحت اور زندگی کا تعلق طبی عوامل، ماحول، طرزِ زندگی اور دیگر حقیقی اسباب سے ہوتا ہے، نہ کہ اس قسم کی علامتی حرکات سے۔البتہ ماہرینِ بشریات اور ثقافتی محققین کے مطابق ایسی روایات مختلف معاشروں کی نفسیات، خاندانی اقدار اور تاریخی سوچ کو سمجھنے میں مدد دیتی ہیں۔ 
یہ عقائد اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوگ اپنے پیاروں کی حفاظت کے لیے مختلف علامتی طریقے اختیار کرتے رہے ہیں۔اس روایت سے جاپانی معاشرے میں والدین اور بزرگوں کے احترام کی جھلک بھی نظر آتی ہے۔ جاپان میں خاندان کو معاشرے کی بنیادی اکائی سمجھا جاتا ہے، اور بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی والدین، اساتذہ اور بزرگوں کا احترام سکھایا جاتا ہے۔انگوٹھوں کو”والدین کی انگلی“ کہنا بھی اسی ثقافتی سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں ہر علامت خاندان کے ساتھ مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔جاپان کی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی قبرستانوں یا مخصوص مقامات سے متعلق مختلف ثقافتی عقائد موجود ہیں۔ کہیں قبرستان سے واپسی پر ہاتھ دھونے کی روایت ہے، کہیں خاموشی اختیار کرنا احترام کی علامت سمجھا جاتا ہے، جبکہ بعض معاشروں میں مخصوص دعائیں پڑھنے کا رواج ہے۔ ان تمام روایات کا مقصد مرحومین کا احترام، ذہنی سکون اور خاندان کی سلامتی کے لیے نیک تمناوں کا اظہار ہوتا ہے۔
آج کے دور میں تعلیم اور سائنسی تحقیق نے دنیا بھر میں بہت سے قدیم عقائد کے بارے میں نئی معلومات فراہم کی ہیں۔ تاہم اس کے باوجود مختلف قومیں اپنی ثقافتی روایات کو اپنی شناخت اور ورثے کا حصہ سمجھتی ہیں۔ جب تک کوئی روایت دوسروں کے لیے نقصان دہ نہ ہو، وہ ایک معاشرے کی تاریخ اور ثقافتی تنوع کی نمائندگی کرتی ہے۔جاپان میں قبرستان سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کی روایت بھی اسی ثقافتی ورثے کی ایک مثال ہے، جو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ مختلف معاشرے اپنے پیاروں کی حفاظت اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کس انداز میں کرتے رہے ہیں۔جاپان میں قبرستان کے پاس سے گزرتے وقت انگوٹھوں کو جیب میں رکھنے کا عقیدہ ایک قدیم لوک روایت ہے، جس کی جڑیں جاپانی زبان، خاندانی اقدار اور ثقافتی علامتوں سے جڑی ہوئی ہیں۔
 اس روایت کے مطابق انگوٹھا والدین کی نمائندگی کرتا ہے، اس لیے اسے چھپا لینا ان کی سلامتی اور لمبی عمر کے لیے نیک خواہشات کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اگرچہ اس عقیدے کی کوئی سائنسی بنیاد موجود نہیں، لیکن یہ جاپان کی ثقافتی تاریخ، خاندانی احترام اور عوامی روایات کو سمجھنے کے لیے ایک دلچسپ مثال ضرور پیش کرتا ہے۔ ایسی روایات ہمیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ دنیا کی مختلف تہذیبیں اپنے عقائد، علامتوں اور رسم و رواج کے ذریعے انسانی جذبات  اورخاندانی تعلقات کو کس خوبصورتی سے محفوظ رکھتی آئی ہیں۔

Daily Program

Livesteam thumbnail