ال نینو اور لا نینا ,
دنیا کے موسم میں تبدیلیاں صرف مقامی عوامل کی وجہ سے نہیں ہوتیں بلکہ سمندروں اور فضائی نظام کا بھی اس میں اہم کردار ہوتا ہے۔ انہی قدرتی مظاہر میں دو اہم نام ”ال نینو“ اور ”لا نینا“ ہیں، جو دنیا بھر کے موسم پر گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ پاکستان سمیت جنوبی ایشیا کے ممالک میں بھی ان کے اثرات محسوس کیے جاتے ہیں، اس لیے ان کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔
ال نینو اور لا نینا دراصل بحرالکاہل کے خطِ استوا کے قریب سمندر کے پانی کے درجہ حرارت میں تبدیلی کے باعث پیدا ہونے والے موسمی مظاہر ہیں۔ یہ دونوں مظاہر چند ماہ سے لے کر ایک سال یا اس سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں اور دنیا کے مختلف حصوں میں بارش، گرمی، سردی اور طوفانوں کے نظام کو متاثر کرتے ہیں۔
ال نینو کیا ہے؟
ال نینو ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”چھوٹا بچہ“ ہے۔ یہ نام پہلی بار جنوبی امریکہ کے ماہی گیروں نے استعمال کیا تھا۔ ال نینو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے میں سمندر کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ پانی کے گرم ہونے سے ہواؤں اور بارشوں کے نظام میں تبدیلی آتی ہے۔ال نینو کے دوران کچھ علاقوں میں شدید بارشیں اور سیلاب آ سکتے ہیں، جبکہ کچھ علاقوں میں خشک سالی پیدا ہو سکتی ہے۔ عام طور پر جنوبی ایشیا میں ال نینو کے اثر سے بارشیں کم ہو سکتی ہیں اور گرمی میں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے۔
لا نینا کیا ہے؟
لا نینا بھی ہسپانوی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ”چھوٹی بچی“ ہے۔ یہ ال نینو کے برعکس کیفیت ہے۔ اس میں بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی حصے کا پانی معمول سے زیادہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔ اس تبدیلی سے ہوائیں تیز ہو جاتی ہیں اور موسمی نظام مختلف انداز میں کام کرتا ہے۔لا نینا کے دوران بعض علاقوں میں زیادہ بارشیں، شدید سردی یا طوفان آ سکتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں اکثر لا نینا کے دوران مون سون بارشوں میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، جس سے سیلاب کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
پاکستان پر اثرات
پاکستان زرعی ملک ہے اور یہاں معیشت کا بڑا حصہ موسم پر منحصر ہے۔ ال نینو اور لا نینا کے اثرات پاکستان میں درج ذیل صورتوں میں ظاہر ہو سکتے ہیں:
٭مون سون بارشوں میں کمی یا زیادتی
٭ شدید گرمی یا غیر معمولی سردی
٭ خشک سالی یا سیلاب
٭ گندم، چاول، کپاس اور دیگر فصلوں پر اثرات
٭پانی کے ذخائر میں کمی یا اضافہ
ال نینو کے سالوں میں بارشیں کم ہونے سے پانی کی قلت اور فصلوں کو نقصان ہو سکتا ہے، جبکہ لا نینا کے دوران زیادہ بارشیں سیلابی صورتحال پیدا کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلو بل وارمنگ کے باعث ال نینو اور لا نینا کے اثرات مزید شدید ہو سکتے ہیں۔ دنیا کا بڑھتا ہوا درجہ حرارت سمندری پانی کو متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی بے ترتیبی میں اضافہ ہو رہا ہے۔حکومتوں اور عوام کو چاہیے کہ موسم کی پیشگوئیوں پر توجہ دیں، پانی کے ذخائر بہتر بنائیں، زرعی منصوبہ بندی کریں اور ہنگامی حالات کے لیے تیار رہیں۔ جدید موسمیاتی نظام ان مظاہر کی پیشگی اطلاع دے سکتا ہے، جس سے نقصانات کم کیے جا سکتے ہیں۔
ال نینو اور لا نینا قدرتی موسمی مظاہر ہیں جو دنیا کے موسم کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ پاکستان میں بھی ان کے اثرات بارش، گرمی، سردی اور زراعت پر پڑتے ہیں۔ اگر ہم ان کو سمجھیں اور بروقت تیاری کریں تو ممکنہ نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔ علم اور آگاہی ہی بہتر مستقبل کی کنجی ہے۔