بِیٹی نیسمتھ گراہم (لیکوڈ پیپر کی بانی)
یہ ڈلاس، ٹیکساس 1954کی با ت ہے جب ایک بینک کے دفتر میں بیٹھی ایک خاتون آنسو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔ وہ طلاق یافتہ، اکیلی ماں تھی، ہائی اسکول ادھورا چھوڑ چکی تھی اور ماہانہ صرف تین سو ڈالر میں اپنے بیٹے کی پرورش کر رہی تھی۔ اس کا نام تھا ِؓبِیٹی نیسمتھ گراہم (Bette Nesmith Graham) اور وہ خود کو ایک ناکام ٹائپسٹ سمجھتی تھی۔
نئے IBM الیکٹرک ٹائپ رائٹرز نے دفتری کام کو تیز ضرور کیا تھا، مگر ایک معمولی غلطی پوری شیٹ دوبارہ ٹائپ کرنے پر مجبور کر دیتی۔ کاربن ربن کی سیاہی پھیل جاتی، صفحے ضائع ہوتے اور وقت برباد ہوتا۔ ہر ٹائپو بِیٹی کے لیے نوکری کے خاتمے کی گھنٹی بن جاتا۔
دسمبر کی ایک دوپہر، بِیٹی نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ چند آرٹسٹ شیشوں پر کرسمس کی سجاوٹ بنا رہے تھے۔ ان سے بھی غلطیاں ہو رہی تھیں، مگر وہ گھبرانے کی بجائے اسی جگہ دوبارہ پینٹ کر کے آگے بڑھ جاتے۔
اْسی لمحے ِؓبِیٹی کے ذہن میں ایک سوال اْبھرا:اگر وہ اپنی غلطی پر رنگ چڑھا سکتے ہیں، تو میں کیوں نہیں؟اْسی رات اْس نے اپنے چھوٹے سے کچن میں ایک تجربہ کیا۔ پانی میں گھلنے والا پینٹ تیار کیا، اْسے کاغذ کے رنگ جیسا بنایا اور نیل پالش کی خالی بوتل میں بھر دیا۔ ایک باریک برش کے ساتھ اگلے دن وہ اْسے دفتر لے گئی۔پہلی غلطی پر اْس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ اْس نے ہلکا سا پینٹ لگایا، چند لمحے انتظار کیا اور غلطی غائب ہو گئی۔ باس کو کچھ معلوم نہ ہوا، مگر ساتھی سیکریٹریوں نے راز جان لیا۔ جلد ہی بِیٹی ہر رات اپنی کچن لیبارٹری میں بوتلیں بنانے لگی۔
اْس کے بیٹے مائیکل اور اْس کے دوست بوتلیں بھرنے میں مدد کرتے۔اْس ایجاد کا پہلا نام تھا ”Mistake Out“
1958 میں اْس نے پروڈکٹ کا نام بدل کر Liquid Paper رکھا اور پیٹنٹ حاصل کر لیا۔ ایک آفس سپلائی میگزین میں مضمون شائع ہوا تو پانچ سو آرڈرز موصول ہوئے۔ بڑی کمپنیوں نے بھی دلچسپی دکھائی۔مگر اسی دوران ایک غلطی نے اْس کی ملازمت ختم کر دی۔ ایک خط ٹائپ کرتے ہوئے اس نے غیر ارادی طور پر باس کے نام کی جگہ اپنی کمپنی کا نام لکھ دیا۔ اسے فوراً برطرف کر دیا گیا۔
جہاں اکثر لوگ ٹوٹ جاتے، ِؓبِیٹی نے اْسے آزادی سمجھا۔ اب وہ مکمل طور پر اپنے کاروبار پر توجہ دے سکتی تھی۔
1960 کی دہائی میں Liquid Paper تیزی سے ترقی کرنے لگی۔ 1968 میں ڈلاس میں جدید فیکٹری قائم ہوئی۔ 1975 تک سالانہ 25 ملین بوتلیں فروخت ہو رہی تھیں۔ذاتی زندگی میں مشکلات بھی آئیں۔ اْس کے شوہر نے کمپنی پر کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی، مگر ِؓبِیٹی نے قانونی جنگ لڑی، اپنا حصہ بچایا اور علیحدگی اختیار کی۔
1979 میں ِؓبِیٹی نیسمتھ گراہم نے اپنی کمپنی Liquid Paper کو Gillette کے ہاتھ 47.5 ملین ڈالر میں فروخت کر دیا۔ وہ امریکہ کی کامیاب ترین خودساختہ کاروباری خواتین میں شامل ہو گئیں۔مگر ان کی میراث صرف دولت تک محدود نہیں رہی۔ انہوں نے خواتین کے لیے کاروباری مواقع اور آرٹ پروگرامز کی سرپرستی کی اور ایسے کام کی جگہوں کا تصور پیش کیا جہاں احترام اور سہولت بنیادی اصول ہوں۔
12 مئی 1980 کو، کمپنی فروخت کرنے کے صرف چھ ماہ بعد ِؓ بِیٹی فالج کی پیچیدگیوں کے باعث 56 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔ اْن کے بیٹے مائیکل نیسمتھ بعد میں معروف موسیقار بنے۔
ِؓبِیٹی نیسمتھ گراہم کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بعض اوقات وہی غلطی جو ہمیں شرمندہ کرتی ہے، ہماری سب سے بڑی طاقت بن سکتی ہے۔انہوں نے صرف ٹائپو درست نہیں کیے،انہوں نے اپنی تقدیر خود لکھی۔اور یہ ثابت کر دیا کہ کبھی کبھی کامیابی ایک چھوٹے سے برش اسٹروک سے شروع ہوتی ہے۔