77ویں سالانہ زیارتِ مقدسہ مریم 2026 ”ملکہ امن“ کے موضوع کے تحت نہایت عقیدت اور روحانی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔

77ویں سالانہ زیارت ِ مقدسہ مریم
77ویں سالانہ زیارت ِ مقدسہ مریم

مورخہ 4تا6  ستمبر 2026کو 77ویں سالانہ زیارت ِ مقدسہ مریم ”ملکہ امن“ کے موضوع کے تحت نہایت عقیدت اور روحانی جوش و خروش کے ساتھ منعقد ہوئی۔ ملک کے مختلف علاقوں سے آنے والے ہزاروں زائرین نے اس مقدس موقع پر شرکت کی اور اپنے خاندانوں، ملک اور پوری دنیا میں امن و سلامتی کے لیے دعائیں کیں۔زیارت کے پہلے روز یوخرستی عبادت کی قیادت فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے فرمائی۔یوخرستی عبادت کے جلوس میں مقدسہ مریم کی پالکی کو جلوس کی صورت میں نہایت شان اور عقیدت کی ساتھ دامن مریم میں لے جا یا گیا۔ 
فوقیت مآب کارڈینل جوزف کوٹس نے دوسرے روز یوخرستی عبادت کی قیادت فرمائی۔انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم مادرِکلیسیا ہمارے لئے ہمیشہ اپنے بیٹے سے سفارش کرتی ہے اور اس کی سفارشوں سے ہم شفا اور بحالی حاصل کرتے ہیں دعا کریں کہ مقدسہ مریم اپنے بیٹے سے ساری دنیا میں امن کے لئے دعا کرے۔ 
  فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہم خداوند خدا کے نام کو جلال دیتے اور اْس کا شکر ادا کرتے ہیں جس نے ہمیں ایمانی عقیدت عطا فرمائی تاکہ ہم خدا کے بیٹے کی ماں، کْل کائنات کی ملکہ،ملکہ امن سے اپنی عقیدت کا اظہار کر سکیں۔درحقیقت جب ہم مقدسہ مریم کی تاجپوشی کرتے،مقدسہ ماں سے متعلق کلام سنتے،سناتے یا  اپنی کسی بھی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں تو ہم اْس کے بیٹے مسیح یسوع کو جلال دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ  زائرین کا دور دراز سے سائیکلوں،قافلوں یا پیدل سفر کر کے آنا،پھول،دوپٹے، موم بتیاں اور گیتوں کے نذرانے لانا دراصل ہماری مقامی روحانیت،عقیدت اور ایمان کا اظہار ہے۔ بشپ جی نے مزید کہا کہ یہ ایمان اور عقیدت ایک دن میں پروان نہیں چڑھتے بلکہ ان کے پیچھے صدیوں کا ایمانی سفر ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ زائرین کی عقیدت اور ایمان کے پیچھے مشنریوں کی محنت، قربانیاں اور گواہی شامل ہے اور آج ہم ان تمام مشنریوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم سے ہماری عقیدت اس وقت اپنی حقیقی معراج کو پہنچتی ہے جب ہم اپنے خاندانوں میں ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں، اپنے بزرگوں اور والدین کا احترام کرتے ہیں اور محبت و خدمت کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بناتے ہیں۔آرچ بشپ خالد رحمت نے جوبلی منانے والے کاہنوں، فادر عمانوئیل یوسف مانی،فادر عمانوئیل عاصی اور فادر جوزف کو دلی مبارکباد پیش کی اور زائرین سے اپیل کی کہ وہ اپنے کاہنوں سے محبت اور تعاون کریں، کیونکہ جماعت کی محبت اور تعاون کاہنوں کو مزید جوش اور جذبے کے ساتھ خدمت انجام دینے کی ترغیب دیتا ہے۔انہوں نے زیارت کے انتظامات میں حصہ لینے والے تمام افراد، رضاکاروں اور منتظمین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے تعاون اور باہمی اتحاد کی تلقین کی۔ انہوں نے دْعا کی کہ امن ہمارے دلوں، گھروں، خاندانوں اور معاشرے کی زندگی کا حصہ بنے۔
عزت ماب بشپ اندیاس رحمت نے دورانِ وعظ مقدسہ مریم سے متعلق کلیسیا کے چار اہم عقائد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم دائماً کنواری ہیں، وہ خدا کی ماں ہیں، وہ بے داغ حمل میں لی گئیں اوروہ زندہ آسمان پر اْٹھائی گئی۔عزت ماب بشپ اندیاس رحمت نے کہا کہ زیارت میں شریک مومنین مقدسہ مریم سے اپنی اپنی عقیدت اور محبت کا اظہار مختلف انداز میں کر تے ہیں، تاہم ہمارا ایمان ہمہ گیر ہے  اور کلیسیا کی تعلیم ہمیں ایمان کی ان بنیادی سچائیوں میں متحد کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم سے عقیدت محض ایک مذہبی روایت نہیں بلکہ مسیحی ایمان کا اہم حصہ ہے، جو ہمیں یسوع مسیح کی طرف لے جاتی ہے اور خدا کے ساتھ ہمارے تعلق کو مضبوط بناتی ہے۔
عزت ماب بشپ اندیاس رحمت نے مقدسہ مریم کو مادرِ کلیسیاکے لقب سے یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک لقب نہیں رہا بلکہ کلیسیا کی عقیدت اور ایمان میں ایک باقاعدہ عید کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم اپنے تمام بچوں کی فکر کرتی ہیں اور ان کی زندگی، مشکلات اور ضروریات میں شفاعت کرتی ہیں۔انہوں نے قانائے گلیل کی شادی کی تقریب میں یسوع مسیح کے پہلے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مقدسہ مریم نے ضرورت کو محسوس کیا اور یسوع مسیح کے سامنے لوگوں کی حاجت پیش کی۔ یہ معجزہ مقدسہ مریم کی شفاعتی کردار اور انسانوں کے لیے ان کی فکر کو ظاہر کرتا ہے۔
عزت ماب بشپ اندیاس رحمت نے کہا کہ مقدسہ مریم نہ صرف اپنے عقیدت مندوں بلکہ پوری دنیا کے لیے دعا کرتی ہے۔ انہوں نے زمین پر جاری مختلف جنگوں اور تنازعات کا ذکر کرتے ہوئے مقدسہ مریم  ملکہ امن سے خصوصی شفاعت کی درخواست کی۔
زیارت کی یوخرستی عبادت میں اپنے وعظ میں ریورنڈ فادر عمانوائیل عاصی نے اپنے وعظ میں مقدسہ مریم کو ملکہ امن قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ امن اور سلامتی کے لیے ہماری شفاعت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقدسہ مریم سورج، چاند اور ستاروں کی ملکہ ہیں۔انہوں نے مقدسہ مریم کے پاک لباس کو سورج کی روشنی اور ان کے قدموں کے نیچے چوکی کو چاند سے تعبیر کیا۔انہوں نے مقدسہ مریم سے وابستہ تاریخی روایات اور معجزات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی انقلاب کے دوران بہت سے کاہنوں کو قتل کیا گیا اور کئی مذہبی اداروں کو نقصان پہنچایا گیا، تاہم کیپوچن کاہنوں نے مقدسہ مریم کے ایک مجسمہ کو محفوظ رکھنے کے لیے چھپا دیا، جو کئی برس بعد دوبارہ ظاہر ہوا۔ریورنڈفادر عمانوائیل  عاصی نے ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ آتش فشاں پہاڑ کے سامنے مقدسہ مریم کا مجسمہ رکھا گیا اور لاوے نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔ اس واقعے میں تباہی سے بچ جانے والے لوگوں نے اسے مقدسہ مریم کی شفاعت اور معجزاتی حفاظت قرار دیا۔
اپنے وعظ میں انہوں نے جوبلی منانے والے کاہنوں کو بھی یاد کیا اور خاص طور پر مرحوم ریورنڈ فادر محبوب ایورسٹ کی مریم آباد میں بے شمار خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے فادر فرینک شہید کو بھی یاد کیا، جنہوں نے مقدسہ مریم کی پہاڑی کی تعمیرمیں اہم کردار ادا کیا۔فادر جی نے کہا کہ کیتھولک کلیسیا سال بھر میں مقدسہ مریم کی 14 عیدیں منائی جاتی ہیں اور جب بھی ہم مقدسہ مریم کو یاد کرتے اور ان کے پاک نام کو مبارک کہتے ہیں تو ہم اپنے ایمان اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ انہوں نے مقدسہ مریم کے مختلف القابات اور لطانیہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب مقدسہ مریم کے مقام، شان اور فضیلت کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے لوریتو کی روایت اور مقدسہ مریم سے وابستہ عقیدت کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے روزری کی دْعا کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ گناہگاروں کی نجات اور دنیا میں امن کے لیے دعا ہماری مسیحی زندگی کا اہم حصہ ہونی چاہیے۔ 
ریورنڈ فادر عاصی نے بتایا کہ لوریتو کی لطانیہ مقدسہ مریم کے اعزاز میں پڑھی جانے والی ایک دعائیہ التجا ہے۔ اسے لوریتو اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ اٹلی کے شہر لوریتو میں واقع پاک خاندان کے گھر سے منسوب ہے۔جس کے بارے میں یہ روایت ہے کہ اس گھر کو خدا کے پاک فرشتے ناصرت سے اْٹھا کر یہاں لائے۔ یہ دعا کلیسیا میں صدیوں سے رائج ہے۔اس لطانیہ میں مقدسہ مریم کو مختلف خوبصورت اور روحانی القابات سے پکارا جاتا ہے، جیسے خدا کی ماں، گنہگاروں کی پناہ، بیماروں کی شفا، مسیحیوں کی مددگار، آسمان کا دروازہ اور صبح کا ستارہ۔
فادر موصوف نے کہا کہ مقدسہ مریم ملکہ امن ہے اور جنگ کو رد کرتی ہے۔ ہر انسان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن کی حمایت اور جنگ کی مخالفت کرے۔ قائن نے حسد کی وجہ سے ہابل کو قتل کیا۔ حسد خاندانوں کو تقسیم اور معاشرے میں تباہی کا باعث بنتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ امن اور صلح جی اٹھے ہوئے یسوع مسیح کا تحفہ ہے، جو معافی، قبولیت، باہمی اتحاد اور دوسروں کی بھلائی تلاش کرنے سے قائم ہوتا ہے۔ پولوس رسول کے نزدیک امن بدن کے اعضا کی طرح باہمی ہم آہنگی اور اتحاد کا نام ہے۔ آج ہمارے معاشرے میں معافی کم اور تشدد زیادہ ہے، اس لیے ہمیں ہر روز اپنی سوچ اور کردار کے ذریعے امن کو فروغ دینا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ماں مریم امن اور سلامتی کا وسیلہ ہے۔ اسی طرح مقدس فرانسس آف اسیسی نے امن، محبت اور تمام مخلوقات کے احترام کا پیغام دیا۔ وہ کائنات کی ہر مخلوق کو بھائی اور بہن کہتے تھے اور سمجھتے تھے کہ انسان کا وجود پوری تخلیق کے تحفظ سے جڑا ہے۔انہوں نے نصیحت کی کہ مقدس فرانسس کی امن کی دعا ہر مسیحی اور ان کے ہر شاگرد کی زندگی کا حصہ ہونی چاہیے اور اسے زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانا چاہیے۔آخر میں ریورنڈفادر عاصی نے کہا کہ آئیں، ملکہ امن، مقدسہ مریم کی طرح ہم بھی امن پھیلانے والے بنیں۔کیونکہ امن اندر سے باہر آتا ہے۔ باہر سے اندر نہیں جاتا۔ باطنی امن روح القدس کی نعمت ہے۔ اس لیے امن کی خواہش کریں، ایک دوسرے کو امن قائم کرنے کا موقع دیں اور ہمشہ امن کے لئے دعا کریں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup