ڈیجیٹل دنیا کو اپنی قدر و قیمت کا تعین نہ کرنے دیں۔ ڈاکٹر اینا جی ہیون یو

مورخہ 7ستمبر2026کو جنوبی کوریا کی ماہرِ ابلاغ ڈاکٹر اینا جی ہیون یو نے پہلی ایشین کیتھولک ڈیجیٹل مشنری اسمبلی سے قبل کیتھولک نوجوانوں پر زور دیا ہے کہ وہ آن لائن مقبولیت، فالوورز کی تعداد یا ڈیجیٹل دنیا میں اپنی موجودگی کو اپنی قدر و قیمت کا معیار نہ بنائیں۔تجربہ کار صحافی اور ماہرِ ابلاغ ڈاکٹر اینا جی ہیون یو نے کہا کہ کلیسیا کے ڈیجیٹل مشن کو نوجوانوں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ ایک ایسی آن لائن دنیا میں اپنی شناخت اور انسانی وقار کو گہرائی سے سمجھ سکیں جو تیزی سے اعداوشمار، دوسروں سے موازنہ اور مسلسل خود کو نمایاں کرنے کے دباؤ سے متاثر ہو رہی ہے۔ریڈیو ویریتاس ایشیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر یو نے کہا کہ ڈیجیٹل دنیا کو اپنی قدر و قیمت کا تعین نہ کرنے دیں۔
یہ اسمبلی 10 سے 13 ستمبر تک فلپائن میں واقع ریڈیو ویریتاس ایشیا کے کیمپس میں منعقد ہوگی۔ اس کا موضوع ”انفلوئنسرز سے گواہوں تک: ایشیا میں ڈیجیٹل مشن کے لیے سنڈی راستہ“ ہے۔ اس اجتماع میں ایشیا بھر سے تقریباً 100 کیتھولک ڈیجیٹل ابلاغ کار اور انفلوئنسرز شرکت کریں گے تاکہ اس بات پر غور کیا جا سکے کہ نوجوانوں کی ڈیجیٹل دنیا میں، جہاں وہ زندگی گزارتے، رابطہ کرتے اور زندگی کے معنی تلاش کرتے ہیں، کلیسیا کس طرح زیادہ بامعنی موجودگی بن سکتی ہے۔ڈاکٹر یو نے کوانگ وون یونیورسٹی سے ابلاغ عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ اخلاقی ابلاغ، انسانی وقار اور مصنوعی ذہانت کے دور میں ابلاغ کے موضوعات پر علاقائی سطح پر ایک اہم آواز کے طور پر سامنے آئی ہیں۔ڈاکٹر یو کے مطابق نوجوانوں کو درپیش اہم مسائل میں سے ایک آن لائن دنیا میں ہر وقت نمایاں رہنے کا دباؤ ہے۔
ڈیجیٹل پلیٹ فارمز لوگوں کو لائکس، فالوورز، ویوز اور دیگر آن لائن سرگرمیوں کی بنیاد پر خود کو دوسروں سے موازنہ کرنے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ تاہم، ان کے مطابق مسیحی گواہی انسانی قدر و قیمت کے ایک مختلف تصور سے شروع ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ گواہ بننے کے لیے ہزاروں فالوورز یا ہر لحاظ سے بہترین نظر آنا ضروری نہیں۔ ایک خاموش لیکن مخلص گفتگو یا ہمدردانہ موجودگی بھی کسی انسان کے دل کو اس طرح چھو سکتی ہے جس کا شاید ہمیں کبھی اندازہ نہ ہو۔انہوں نے نوجوان ڈیجیٹل مشنریوں پر زور دیا کہ وہ اپنی رسائی بڑھانے کی حکمتِ عملیوں سے پہلے دْعا، سننے اور مسیح کے ساتھ حقیقی ملاقات کو ترجیح دیں۔رسولوں کے اعمال  4 باب 20 آیت میں کہا گیا ہے کہ کیونکہ ممکن نہیں کہ جو ہم نے دیکھا اور سْنا ہے و ہ نہ کہیں۔ اس آیت پر غور کرتے ہوئے ڈاکٹر یو نے کہا کہ رسولوں نے اس لیے کلام نہیں کیا تھا کہ وہ اپنا پلیٹ فارم بنانا یا کسی پیغام کی تشہیر کرنا چاہتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اس لیے گواہی دی کیونکہ انہوں نے خود مسیح کو دیکھا اور سنا تھا۔ڈیجیٹل مشنریوں کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ ابلاغ صرف زیادہ نمایاں ہونے کی کوشش سے نہیں بلکہ مسیح کے ساتھ حقیقی ملاقات سے قدرتی طور پر پیدا ہونا چاہیے۔
 جنوبی کوریا ان سوالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک اہم مثال پیش کرتا ہے۔ ملک کی تقریباً 94.5 فیصد آبادی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے، جبکہ تقریباً 97 فیصد بالغ افراد اسمارٹ فون استعمال کرتے ہیں۔ ڈاکٹر یو نے یہ بھی بتایا کہ تقریباً دو تہائی کوریائی شہری پہلے ہی کسی نہ کسی مصنوعی ذہانت کی سروس استعمال کر چکے ہیں۔تاہم، کوریائی بشپ صاحبان کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق صرف 15.5 فیصد کوریائی کیتھولک اتوار کی پاک ماس میں شرکت کرتے ہیں، جبکہ کیتھولک آبادی کی عمر بھی بڑھ رہی ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو یوں بیان کیا کہ 94 فیصد لوگ ڈیجیٹل دنیا سے جڑے ہوئے ہیں، لیکن صرف 15 فیصد عملی طور پر موجود ہیں۔ ان کے مطابق یہی ہمارے دور کا ایک اہم کلیسیائی اور روحانی سوال ہے۔
اس لیے چیلنج صرف یہ نہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر مزید کیتھولک مواد پیش کیا جائے۔ کلیسیا کو وہ چیز پیش کرنی چاہیے جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی خود فراہم نہیں کر سکتی، یعنی حقیقی انسانی موجودگی۔ڈاکٹر یو نے کلیسیا پر زور دیا کہ وہ اپنے روحانی اور کلیسیائی طریقہ کار میں ”ہمارے پاس آئیں“سے آگے بڑھ کر ”ہم آپ کے ساتھ چلیں گے اور آپ کا ساتھ دیں گے“ کی طرف قدم بڑھائے۔انہوں نے خبردار کیا کہ تربیت اور روحانی تشکیل کے بغیر اثر و رسوخ نوجوان مواد تخلیق کرنے والوں کو ذہنی تھکن، تنہائی اور غیر صحت مند توقعات کا شکار بنا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت کے دور میں خوبصورت اور بے عیب مواد تیار کرنا آسان، عام اور فوری ہو چکا ہے۔ ٹیکنالوجی کسی پیغام کی طاقت کو بڑھا سکتی ہے، لیکن وہ ہمدردی، انسانی لمس یا ایمانداری سے گزاری گئی زندگی کو مصنوعی طور پر پیدا نہیں کر سکتی۔انہوں نے نوجوانوں کو ورلڈ یوتھ ڈے سیول 2027 کی جانب ڈیجیٹل زیارت کے لیے بھی تیار ہونے کی ترغیب دی۔ ان کے مطابق یہ اجتماع محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایشیا کی مختلف زبانوں، ثقافتوں اور سرحدوں کے درمیان اتحاد اور برادری کو مضبوط بنانے کا ایک موقع ہے۔مبارک کارلو اکوتس کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر یو نے کہا کہ انٹرنیٹ حقیقی ملاقات اور تعلق کا ذریعہ بن سکتا ہے، بجائے اس کے کہ لوگ خود کو الگ تھلگ ڈیجیٹل دنیا میں قید کر لیں۔انہوں نے کہا کہ کیتھولک ڈیجیٹل مشن کا حتمی مقصد صرف الگورتھمز کے ذریعے مسیح کو زیادہ نمایاں بنانا نہیں، بلکہ ایسے ڈیجیٹل ماحول پیدا کرنا ہے جہاں لوگ ہمدردی کے ساتھ ایک دوسرے سے مل سکیں، ایک دوسرے کی بات توجہ سے سن سکیں اور ایمان کی محبت اور گرمجوشی کا تجربہ کر سکیں۔
 

 ڈاکٹر اینا جی ہیون یو
ڈاکٹر اینا جی ہیون یو

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup