مشینوں کی بالادستی اور حکمرانی انسانی دل کی موت کا سبب بن رہی ہے۔ فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت
مورخہ 20 جون 2026 کو بشپ ہاؤس لاہور میں ڈایوسیس آف لاہور کے کاہن صاحبان کے لئے پاپائے اعظم لیو چہاردہم کی پہلی دستاویز ”نغمہء انسانیت“ (MAGNIFICA HUMANITAS) کے حوالے سے ایک روزہ نشست کا انعقاد کیا گیا۔جس کے مقررریورنڈ فادر امجد یوسف تھے۔جنہوں نے پوپ لیو کی دستاویز نغمہ انسانیت کو مفصل انداز میں بیان کیا۔
اس موقع پر فضیلت مآب آرچ بشپ خالد رحمت نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس ہمارے عہد کی ایک نہایت اہم دستاویز کے مطالعے اور اس پر غور و فکر کے لیے منعقد کیا گیا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے ضمیر کا جائزہ لیں۔ کلیسیا کی جانب سے جاری ہونے والا ہر خط یا دستاویز ہم میں سے ہر ایک، خصوصاً کاہنوں اور مذہبی راہبوں و راہبات کے لیے ہوتی ہے تاکہ ہم اپنے رویّوں، طرزِ عمل اور ذمہ داریوں کا محاسبہ کر سکیں۔بشپ جی نے کہا کہ بطور کاہن اور چرواہے ہم مشینوں کی نہیں بلکہ انسانوں کی خدمت کرتے ہیں۔ اس دستاویز میں جن بنیادی اقدار پر زور دیا گیا ہے وہ حکمت، آزادی، انصاف، انسانیت اور امن ہیں۔انہوں نے اس دستاویز میں بیان کیے گئے خدشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے ہم بہت سی نئی چیزیں تخلیق کر سکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ انسانی جذبات، جمالیاتی حس اور تخلیقی صلاحیتوں کا کیا ہوگا؟
اس موقع پر آرچ بشپ نے پاکستان کے معروف قومی شاعر علامہ اقبال کے شعر کا حوالہ دیا:
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات
یعنی مشینوں کی بالادستی اور حکمرانی انسانی دل کی موت کا سبب بن رہی ہے، جبکہ آلات انسان کے اندر موجود ہمدردی اور مروّت کے جذبات کو کچل دیتے ہیں۔
بشپ جی نے مزید کہا کہ علامہ اقبال نے یہ بات صنعتی انقلاب کے تناظر میں کہی تھی۔ اسی طرح پوپ لیو تیرھویں کے مشہور دستاویز Novaram Rerum کا پس منظر بھی صنعتی انقلاب تھا، لیکن آج 135 سال بعد ہم مصنوعی ذہانت (AI) کے انقلاب کا سامنا کر رہے ہیں۔انہوں نے زور دیا کہ ہمیں انسانی وقار، انصاف اور امن کے فروغ کا انتخاب کرنا چاہیے۔ یہ دستاویز ہمیں اپنے دور کے بہتر چرواہے، رہنما اور خادم بننے میں مدد دیتی ہے۔کاہنوں اور مذہبی شخصیات سے خطاب کرتے ہوئے بشپ جی نے انہیں ترغیب دی کہ وہ اس دستاویز کی تعلیمات کو اپنی زندگی کے ہر شعبے اور ہر خدمت میں عملی طور پر فروغ دیں تاکہ انسانی وقار، محبت، انصاف اور امن کے فروغ میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ریورنڈ فادر آصف سردار (وِکر جنرل آرچ ڈایوسیس آف لاہور) نے اس دستاویز کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز تمام ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پاکستانی معاشرہ کیلئے ایک بہت بڑا پیغام ہے۔انہوں نے اْمید ظاہر کی کہ دستاویز پاکستان میں بے روزگاری اور غربت کے خاتمہ کا باعث بنے گی۔
ریورنڈفادر امجد یوسف نے بتایا کہ یہ دستاویز مصنوعی ذہانت (AI) کے دور میں انسانی وقار، سماجی انصاف، امن اور مشترکہ بھلائی کے تحفظ پر زور دیتی ہے۔ پوپ لیو چہاردہم نے اپنی دستاویز میں واضح کیا ہے کہ ٹیکنالوجی بذاتِ خود نہ اچھی ہے نہ بری، بلکہ اس کا اخلاقی استعمال انسانی ذمہ داری اور اجتماعی فلاح سے وابستہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ (MagnificaHumanitas)کلیسیا کی سماجی تعلیمات کو موجودہ دور کے چیلنجز، خصوصاً مصنوعی ذہانت، روزگار، ابلاغ اور عالمی امن کے تناظر میں پیش کرتی ہے۔ دستاویز میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی انسان کی خدمت کرے، نہ کہ انسان ٹیکنالوجی کا تابع بن جائے۔
شرکاء نے اس دستاویزکے مختلف ابواب پر تبادلہ خیال کیا اور اس بات پر زور دیا کہ جدید ٹیکنالوجی کے دور میں کلیسیا کو اخلاقی رہنمائی فراہم کرنے میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔پوپ لیو چہاردہم نے اپنی دستاویز میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کے لیے شفافیت، جوابدہی اور انسانی حقوق کے احترام کو بنیادی اصول قرار دیا ہے۔پا پائے اعظم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے اس دور میں انسانی عظمت، اور امن و انصاف کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ سماجی ذمہ داری ہے۔