فیڈریشن آف ایشیائی بشپ کانفرنسز (FABC)کے صدر نے جنرل اسمبلی سے قبل ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کا وژن پیش کر دیا۔
فیڈریشن آف ایشیائی بشپ کانفرنسز (FABC) کے صدر اور بھارت کے مغربی علاقے گوا و دمن کے آرچ بشپ کارڈینل فیلیپے نیری فیراؤ نے ایک زیادہ سنڈی، مشنری اور مکالمہ پر مبنی کلیسیا کے لیے اپنا وژن پیش کیا ہے۔ایشیا میں کیتھولک کلیسیا جب فیڈریشن آف ایشیائی بشپ کانفرنسز (FABC) کی 12ویں جنرل اسمبلی کی تیاری کر رہی ہے، تو کارڈینل فیلیپے نیری فیراؤ نے اس اْمید کا اظہار کیا ہے کہ کلیسیا مستقبل میں سنڈی روح، بشارتی جذبے اور تعمیری مکالمہ کے ذریعے اپنی رسالت کو مزید مؤثر انداز میں انجام دے گی۔یہ جنرل اسمبلی 20 تا 26 جولائی تک انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ میں منعقد ہوگی، جس کا موضوع ہے:”سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن“۔اس اجلاس میں ایشیا بھر سے بشپ صاحبان شریک ہوں گے تاکہ براعظم کی تیزی سے بدلتی ہوئی سماجی، ثقافتی، معاشی اور مذہبی صورتِ حال کے تناظر میں کلیسیا کے مشن پر غور و فکر کیا جا سکے۔
ریڈیو ویریتاس ایشیا (RVA) کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کارڈینل فیراؤ نے اسمبلی کی اہمیت، اپنی توقعات اور اس بات پر روشنی ڈالی کہ یہ اجتماع ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل کو کس طرح نئی سمت دے سکتا ہے۔
٭12ویں جنرل اسمبلی کے موضوع کی اہمیت کیا ہے؟
کارڈینل فیراؤ نے بتایا کہ فیڈریشن آف ایشیائی بشپ کانفرنسزکی جنرل اسمبلی ہر چار سال بعد منعقد ہوتی ہے، جس میں ایشیا بھر کے بشپ صاحبان ایک منتخب موضوع پر غور کرتے ہوئے خطے کو درپیش نئے حالات اور چیلنجز کے تناظر میں کلیسیا کے مشن کا جائزہ لیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس سال کا موضوع سنڈی تبدیلی کی دعوت اور ایشیا میں پْل اور پْل تعمیر کرنے والے بننے کا مشن ہے،اور اس کا الہام مقدس بائبل کے اس کلام سے لیا گیا ہے: ”تْو اس سے بھی بڑے بڑے ماجرے دیکھے گا۔“ (یوحنا 1:50)۔کارڈینل فیراؤ کے مطابق آج ایشیا اور دْنیا تیزی سے بدلتے ہوئے حالات سے گزر رہی ہے، جن میں ثقافتی تبدیلیاں، ہجرت، معاشی عدم مساوات، ماحولیاتی بحران اور مذہبی تنوع شامل ہیں۔ ایسے ماحول میں ایشیا کی کلیسیا پر امن، ہم آہنگی اور مکالمے کو فروغ دینے کی خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سنڈی طرزِ زندگی کلیسیا کو ملاقات، مفاہمت اور اشتراک کا مرکز بناتا ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ ہم نہ صرف خود پْل بنیں بلکہ دوسروں کے درمیان بھی پْل تعمیر کرنے والے ثابت ہوں، تاکہ ایشیا اور دنیا بھر میں مختلف اقوام، ثقافتوں اور مذاہب کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں اور کلیسیا امید اور اتحاد کی معتبر گواہ بن سکے۔
٭جنرل اسمبلی سے آپ کی کیا توقعات ہیں؟
کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ اس اسمبلی میں پانچ بنیادی ترجیحات پر توجہ دی جائے گی۔
اوّل، ایشیا میں کلیسیا کی زندگی، اس کے مشن، تنوع، ترقی اور موجودہ چیلنجز پر دعا، غور و فکر اور تنقیدی جائزہ لیا جائے گا۔
دوم، مشترکہ سماعت اور مکالمے کے ذریعے ایشیا کی کلیسیا کی سب سے اہم پاسبانی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔
سوم، رکن بشپ کانفرنسزکے درمیان بہتر رابطے، باہمی تعاون، تجربات کے تبادلے اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے اتحاد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔
چہارم، ایشیا کے مذہبی اور ثقافتی تنوع کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی افہام و تفہیم، امن، احترام اور انجیل کی گواہی کے لیے نئے پل تعمیر کرنے کے طریقے تلاش کیے جائیں گے۔
پنجم،کلیسیا اور معاشرے کو درپیش اہم مسائل کا دیانت داری سے جائزہ لیتے ہوئے انجیل کی روشنی میں رعایتی حساسیت اور عملی اقدامات کے ذریعے ان کا جواب دینے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام توقعات کے ساتھ ہم خود کو روح القدس کی رہنمائی کے سپرد کرتے ہیں، جو کلیسیا کی تجدید کرتا اور ہمارے مشترکہ سفر کے لیے نئی راہیں کھولتا ہے۔
کارڈینل فیراؤ نے یہ بھی بتایا کہ جنرل اسمبلی کے اختتام پر ایک حتمی دستاویز تیار کی جائے گی، جو ایشیا میں سنڈی طرزِ زندگی کے لیے ایک عملی رہنماکے طور پر کام کرے گی۔
٭ یہ اسمبلی ایشیا میں کلیسیا کے مستقبل میں کس طرح کردار ادا کرے گی؟
اس سوال کے جواب میں کارڈینل فیراؤ نے کہا کہ ان کے خیال میں جنرل اسمبلی تین اہم طریقوں سے ایشیا میں کلیسیا کی ترقی اور مستقبل کے مشن میں معاون ثابت ہوگی۔
اوّل، یہ ایشیا کی مقامی کلیسیاؤں کے درمیان سنڈی کو مزید مضبوط کرے گی۔ اس کے ذریعے بشپ، کاہن، مذہبی افراد اور عام مومنین ایک دوسرے کو سننے، مشترکہ مشاورت اور اجتماعی امتیاز کے عمل میں زیادہ مؤثر انداز سے شریک ہوں گے۔
دوم، یہ بدلتے ہوئے سماجی، ثقافتی اور مذہبی حالات کے تناظر میں بشارت کے مشن کی نئی روح پیدا کرے گی، تاکہ کلیسیا تخلیقی انداز، نئے جوش اور مؤثر حکمتِ عملی کے ساتھ انجیل کی خوشخبری سنانے کا فریضہ انجام دے سکے۔
سوم،یہ معاشرے میں بین المذاہب مکالمے، انصاف، امن اور انسانی عظمت کے فروغ میں کلیسیا کے کردار کو مزید مضبوط بنائے گی، تاکہ ایشیا کے متنوع معاشروں میں کلیسیا مسیحی ایمان کی ایک معتبر اور اْمید کے گواہ بن سکے۔