دْعا، روزہ اور خیرات کے ذریعے ہم سب خدا کی محبت اور رحمت کے سفیر بن سکتے ہیں۔فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد
فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد نے مسیحی برادری کی جانب سے امتِ مسلمہ کو رمضان المبارک کی دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سال ایک خوبصورت اور نادر روحانی لمحہ دیکھنے میں آ رہا ہے جب مسیحیوں کے روزوں کے مقدس ایام اور مسلمانوں کا بابرکت مہینہ رمضان المبارک بیک وقت شروع ہو رہے ہیں۔اپنے پیغا م میں بشپ صاحب نے خداکا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک الٰہی دعوت ہے کہ دونوں مذاہب کے پیروکار مشترکہ روحانی سفر پر گامزن ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی روایت میں لینٹ دْعا، روزہ اور خیرات کا وقت ہے جو توبہ، روحانی تجدید اور خدا سے گہرا تعلق استوار کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے روزہ، قیام، تلاوتِ قرآنِ مجید اور زکوٰۃ و صدقات کے ذریعے سخاوت اور ہمدردی کا مہینہ ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں مقدس اوقات انسان کو دل کی پاکیزگی، نفس کی تربیت اور محتاجوں کے لیے دستِ تعاون دراز کرنے کا درس دیتے ہیں۔ ایک ایسے دور میں جب دنیا تقسیم، غلط فہمیوں اور تنازعات کا شکارہے، یہ مشترکہ روحانی اقدار اس بات کا عملی ثبوت ہیں کہ ایمان تفریق نہیں بلکہ رحمت، اخوت اور یکجہتی کا ذریعہ ہے۔فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد کا کہنا تھا کہ جب ایک مسیحی روزرہ رکھ کر دْعا میں جھکتا اور ایک مسلمان سجدہ ریز ہوتا ہے اور پھر جب دونوں بھوکوں کو کھانا کھلاتے اور دْکھی انسانیت کی مدد کرتے ہیں تو وہ مل کر اعلان کرتے ہیں کہ مذہب انسانیت کی خدمت اور امن کا پیغام دیتا ہے۔ روزہ ہمیں صبر، انکساری اور خود احتسابی سکھاتا ہے جبکہ دْعا ہمیں اس خالقِ کائنات سے جوڑتی ہے جو پوری انسانیت کا رب ہے۔ خیرات ایمان کو عمل میں ڈھال کر اْمید، محبت اور امن کے پل تعمیر کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے پیارے ملک میں جہاں مختلف مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے اور ایک بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں، یہ بیک وقت مقدس ایام بین المذاہب ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کا سنہری موقع ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہم ایک دوسرے سے ملاقات کریں، احترام کے ساتھ مبارک باد دیں اور معاشرے کے کمزور طبقات کی خدمت میں متحد ہو جائیں تاکہ گرجا گھر اور مساجد امن، محبت اور ہمدردی کے مراکز بن سکیں۔اپنے پیغام کے آخر میں بشپ جی نے دونوں مذاہب کے ماننے والوں کو اس مقدس موسم میں امن کے لیے خصوصی دْعاؤں کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ دْعا، روزہ اور خیرات کے مشترکہ عزم کے ذریعے ہم سب خدا کی محبت اور رحمت کے سفیر بن سکتے ہیں۔ انہوں نے دْعا کی کہ خدا کرے یہ مقدس ایام ہمارے دلوں کو پاک، ایمان کو مضبوط اور ہمیں ایک انسانی خاندان کے طور پر متحد کریں نیز ہمیں بھائی چارے، امن اور ہم آہنگی کا سچا نمائندہ بنائیں۔