انسانی چہروں اور آوازوں کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ دار ہے۔ فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد
مورخہ15مئی 2026کو قومی کمیشن برائے سماجی ابلاغیات کے زیرِ اہتمام سینٹ انتھنی ہال لاہور میں 60واں عالمی یومِ ابلاغیات منایا گیا۔جس کی صدارت کیتھولک بائبل کمیشن کے ڈائریکٹر،ریورنڈ فادر جوزف شہزاد نے فرمائی۔ جبکہ مہمانانِ گرامی میں ریورنڈ فادر بشارت سراج(پرنسپل،سینٹ انتھنی ہائی سکول اینڈ کالج) ریورنڈ فادر نقاش اعظم (ریکٹر۔سینٹ میریزمائنر سیمنیری) جیسپرعاشق(ڈائریکٹر۔کیتھولک،ٹی وی) فنحاس کنول(کیمرہ مین اینڈ ایڈیٹر ایکسپریس ٹی۔وی )کاشف نواب(چیف ایڈیٹر،وائٹ پوسٹ) روتھ نیامت (منیجر پاک سیون ٹی۔وی) سید فرزند علی (سینئیر صحافی اینڈ جوائنٹ سیکریٹری پنجاب اسمبلی پریس گیلری) عبدالماجد ملک(سینئر کالم نگار) یوسف بینجمن(صحافی)اور مولانا عاصم مخدوم (چئیر مین کل مسالک علماء بورڈ) شامل تھے۔
ریورنڈ فادر جوزف شہزاد نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ باغِ عدن کے اُس درخت کو آج کی مصنوعی ذہانت (AI) سے تشبیہ دی جا سکتی ہے کہ جس طرح اُس درخت نے انسان کی توجہ کو اپنی جانب متوجہ کیا، اسی طرح جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت بھی انسان کو اس کی اصل حقیقت اور مقصد سے دور کر سکتی ہے۔ تاہم انسانی عقل وشعورہمیں یہ دعوت دیتے ہیں کہ ہم صحیح اور غلط میں تمیز کریں، تاکہ نئی ٹیکنالوجی انسانی شناخت، اخلاقی اقدار اور انسان کے حقیقی تشخص کو مسخ نہ کر سکیں۔ آخر میں ریورنڈ فادر جوزف شہزاد نے ریورنڈ فادر قیصر فیروز کو کانفرنس کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی۔
تقریب کا باقاعدہ آغاز ایف۔ٹی۔ایل سسٹرز کے دعائیہ گیت سے ہوا۔جس کے بعد پاک کلام کی تلاوت کی گئی۔بعد ازاں مہمانِ خصوصی ریورنڈ فادر جوزف شہزادکو مالا اور گْلدستہ پیش کر کے خوش آمدید کہا گیا۔
ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے پاور پوائنٹ پریزنٹیشن کے ذریعے پاپائے اعظم کے عالمی یومِ ابلاغیات کے پیغام کو بیان کرتے ہوئے بتایا کہ سالِ رواں میں پاپائے اعظم لیو چہاردہم نے اپنے پیغام میں ہمیں یاد دلایا ہے کہ انسانی چہرہ اور آواز خدا کی عطا کردہ مقدس پہچان ہیں، اس لیے ان کی عزت اور حفاظت ضروری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہو تو یہ انسانی تعلقات، سچائی اور آزاد سوچ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاپائے اعظم نے اپنے پیغام میں اس امر پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے اعداو شمار، لوگوں کو غصے، تقسیم اور سطحی سوچ کی طرف لے جا سکتے ہیں، اس لیے انسان کو اپنی سوچنے، پرکھنے اور سچ جانچنے کی صلاحیت کو ترک نہیں کرنا چاہیے۔آخر میں انہوں نے کہا کہ پاپائے اعظم ہمیں دعوت دیتے ہیں کہ ہم سب متحد ہوں تاکہ انسانی آوازوں اور چہروں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انسانی آوازوں اور چہروں کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ بھلائی اور سماجی ذمہ داری ہے۔
اس کانفرنس میں فضیلت مآب آرچ بشپ ڈاکٹر جوزف ارشد ، چیئرمین قومی کمیشن برائے ابلاغیات، ایڈ لیمینا وزٹ کے سلسلے میں ویٹی کن میں موجود ہونے کے باعث شرکت نہ کر سکے۔ تاہم، انہوں نے ویٹی کن سے اپنے آن لائن خطاب میں کہا کہ پو پ لیو نے ہمیں اپنے پیغام کے ذریعے ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ہمارے چہرے اور ہماری آوازیں خدا کی اس الٰہی محبت کا عکس ہیں۔ جس سے ہم ایک دوسرے کو جانتے،پہچانتے،سمجھتے اور محبت کرتے ہیں۔اس لیے ان کا تحفظ دراصل انسانیت کا تحفظ ہے۔پوپ لیو دنیا کو خبردار کرتے ہیں کہ مشین کبھی بھی انسان کی حقیقی موجودگی کا متبادل نہیں ہو سکتی۔ ہمیں مصنوعی ذہانت،انسانی خدمت کے لیے استعمال میں لانے کی ضرورت ہے۔اور اس جڑی اخلاقی قدروں اور ذمہ داریوں کو بھی دنیا میں پورا کرنا ہے۔اگر ہم اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے توڈیجیٹل ٹیکنالوجی ہماری اسانی تہذیب کے بنیادی ستونون کو بدل کر رکھ دے گی،ہمیں میڈیا کا استعمال ا نسانی مشترکہ بھلائی کے لیے کرنا ہے۔ خدا کے کلام کے پرچار اور کلیسیائی تعلیمات کو پھیلانے کے لئے پاکستانی کلیسیا کو بھی کاہن صاحبان،سسٹر صاحبات، برادران اور عام مومنین کو تیار کرنے کی ضرورت ہے۔اسی لئے قومی کمیشن برائے ابلاغیات لوگوں کی تربیت کے لیے اکثر اوقات تربیتی ورکشاپس کا انعقاد کرتا رہتا ہے۔ ذراائع ابلاغ کا استعمال کلیسیا کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ یہ ہمیں مختلف کمیونیٹیز اور افراد تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔ آئیں ذرائع ابلاغ کا موثر استعمال کرتے ہوئے خدا کے کلام کو لوگوں میں عام کریں اور امن،صلح اور سلامتی کا وسیلہ بنیں۔
ریورنڈ فادر بشارت سراج(پرنسپل،سینٹ انتھنی ہائی سکول اینڈ کالج) نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ پوپ لیو نے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی آوازوں اور چہروں کی اصل شناخت کا تحفظ ضروری ہے، تاکہ جدید ٹیکنالوجی انسانیت کو نقصان نہ پہنچا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب خدا کی شبیہ پر تخلیق کیے گئے ہیں، اور انسانی شناخت الٰہی مشابہت کی عکاس ہے، جس کا تحفظ ہماری مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مولانا عاصم مخدوم اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ پوپ لیوکا پیغام بہت موثر اور اہم ہے۔ یہ پیغام صرف مسیحی برادری کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پیغام کو مندروں، گْردواروں،گرجا گھروں اور مساجدتمام مذہبی و تعلیمی اداروں میں عام کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس کا مثبت اثر معاشرے میں مؤثر طور پر سامنے آ سکے ۔
محترمہ روتھ نیامت نے کہا کہ مصنوعی ذہانت جدید دور کی ایک اہم ضرورت ہے، تاہم اس کے استعمال میں احتیاط اور واضح قوانین ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈنمارک میں ہر فرد کی آواز اور چہرے کے حقوق (copyright) کے تحفظ کے لیے مضبوط قانون سازی موجود ہے، جس سے شہریوں کی شناخت محفوظ رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی اسی طرز کے قوانین بنانے اور عالمی سطح پر ابھرنے والے اخلاقی و قانونی چیلنجز کے تناظر میں نوجوانوں کی بہتر رہنمائی کی ضرورت ہے۔
سید فرزند علی نے کہا کہ موجودہ دور میں بعض اوقات کسی کی آواز یا چہرہ تبدیل کر کے پیش کیا جاتا ہے، جس سے حقیقت مسخ ہو جاتی ہے اور سچائی پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔ ایسے حالات میں پوپ لیو کا پیغام پوری انسانیت کے لیے اْمید کی ایک کرن ہے، جو سچائی، ذمہ دارانہ ابلاغ اور انسانی وقار کے تحفظ کی طرف رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
ریورنڈ فادر نقاش اعظم نے کہا کہ لائبریری میں وقت گزارنا اب ایک خوبصورت یاد بن چکا ہے، جو علم سے محبت کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ انسان کو جدید سہولیات حاصل ہو رہی ہیں، لیکن ان کا بے دریغ اور غلط استعمال نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انسان ایک مخلوق ہے، مگر بعض اوقات وہ ٹیکنالوجی کے غلط استعمال کے ذریعے خود کو خدا بنانے کی کوشش کرتا ہے، جو ایک خطرناک رویہ ہے۔
جیسپر عاشق نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلیسیا نے ابلاغ کے عالمی دن منانے کی ضرورت آج سے 60 سال قبل محسوس کی۔یہ اْن کی دور اندیشی ہی تھی۔لیکن آج میڈیا انسانی خدمت کی بجائے اْسی کی شناخت کو ختم کرتا جا رہا ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اس کی چابی انسان کے اپنے ہاتھ میں ہے۔انہون نے کہا کہ ہمیں AIسے ڈرنا نہیں ہے بلکہ مکمل ذمہ داری سے اس کا استعمال کرتے ہوئے خدا کی مرضی بجا لانی ہے۔
فنحاس کنول نے کہا کہ ہر سہولت کے ساتھ کچھ خطرات بھی ہوتے ہیں، کیونکہ جھوٹی خبریں، فیک ویڈیوز، کردار کشی، نفرت انگیز مواد اور پرائیویسی کے غلط استعمال جیسے مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق اے آئی ایک طاقتور ذریعہ ہے جو درست استعمال کی صورت میں انسانیت کی خدمت کر سکتا ہے، مگر غلط ہاتھوں میں جا کر یہ معاشرے میں غلط فہمیاں، انتشار اور اعتماد کی کمی پیدا کر سکتا ہے۔
کاشف نواب نے کہا کہ دنیا میں مختلف عالمی دن منائے جا رہے ہیں، لیکن ان سب کو جوڑنے والے ذرائع ابلاغ ہی ہیں۔ انہوں نے کہا AI کے ذریعے موصول ہونے والی خبریں بعض اوقات پریشان کن اور انتشار پھیلانے والی ہوتی ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں خبر تحقیق کے ساتھ تیار کرنی چاہیے اور انسانی آوازوں اور چہروں کے تحفظ کو ضمانت کا مشن سمجھتا چاہیے۔
یوسف بینجمن نے کہا کہ ہم محض گوشت پوست کا مجموعہ نہیں بلکہ اپنے اندر خدا کی جھلک لیے ہوئے ہیں، اس لیے اس مقدس تخلیق میں کسی بھی قسم کی ملاوٹ ایک سنگین اخلاقی جرم ہے۔ ان کے مطابق اگر آوازوں اور چہروں سے سچائی کو نکال دیا جائے تو صرف دھوکہ باقی رہ جاتا ہے، جس کا خاتمہ کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔
عبدالماجد ملک نے کہا ایک دور اخبار کا تھا، پھر سوشل میڈیا کا دور آیا جس نے تیز رفتار معلومات کے ساتھ ایک نیا ماحول پیدا کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ان جدید ذرائع کا استعمال شعور، عقل اور ذمہ دارانہ رویے کے ساتھ کرنا چاہیے۔
اس کانفرنس میں سیمنریرین، سسٹر صاحبات،سکول ٹیچرز،صحافیوں اور مومنین نے شرکت کی۔آخر میں ریورنڈ فادر قیصر فیروز نے تمام شرکا کا شکریہ ادا کیا۔
اس موقع پر عالمی یومِ ابلاغیات کے حوالے سے تیار کردہ پوسٹرز اور پمفلٹس بھی شرکاء میں تقسیم کیے گئے، تاکہ ابلاغیات کی اہمیت، ذمہ دارانہ استعمال اور پاپائے اعظم کے پیغام کو عام کیا جا سکے۔