دخمہ نشینی

دخمہ نشینی
دخمہ نشینی

دنیا کے مختلف مذاہب اور تہذیبوں میں انسان کی وفات کے بعد آخری رسومات ادا کرنے کے الگ الگ طریقے رائج ہیں۔ کہیں میت کو دفن کیا جاتا ہے، کہیں اسے جلایا جاتا ہے، جبکہ بعض مذاہب میں فطرت کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہوئے میت کو قدرتی عناصر کے سپرد کیا جاتا ہے۔ پارسی یا زرتشتی مذہب میں مروج ایک قدیم اور منفرد رسم دخمہ نشینی کہلاتی ہے، جسے عام طور پر Tower of Silence یعنی خاموشی کا مینار بھی کہا جاتا ہے۔ یہ رسم زرتشتی مذہب کے عقائد، پاکیزگی کے تصور اور فطرت کے احترام سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
لفظ دخمہ فارسی زبان سے تعلق رکھتا ہے اور زرتشتی مذہب میں اس سے مراد وہ مخصوص جگہ ہے جہاں وفات پانے والے افراد کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ دخمہ عموماً ایک بلند، گول اور کھلی عمارت یا احاطہ ہوتا ہے۔ زرتشتی عقیدے کے مطابق زمین، پانی، آگ اور ہوا کو مقدس سمجھا جاتا ہے، اس لیے روایتی طور پر میت کو زمین میں دفن کرنے یا آگ میں جلانے سے گریز کیا جاتا تھا۔ اس کی بجائے میت کو ایسی مخصوص جگہ پر رکھا جاتا جہاں اسے قدرتی عناصر کے سپرد کیا جا سکے۔جب کسی پارسی شخص کا انتقال ہوتا ہے تو اس کی میت کے ساتھ مخصوص مذہبی رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ زرتشتی روایت میں میت کو خصوصی افراد، جنہیں نساسالار کہا جاتا ہے، دخمہ تک لے جاتے ہیں۔ وہاں میت کو مخصوص انداز میں رکھا جاتا ہے۔ روایتی طور پر دخمہ ایسی کھلی جگہ ہوتی ہے جہاں سورج کی روشنی اورہوا براہِ راست پہنچ سکتی ہے۔ ماضی میں گدھ جیسے شکاری پرندے مردہ جسم کو قدرتی طور پر ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے تھے۔ اس طرح جسم کو زمین، پانی یا آگ کے ذریعے تلف کرنے کے بجائے قدرتی عمل کے ذریعے ختم ہونے دیا جاتا تھا۔ جب جسم کے باقی حصے ختم ہو جاتے تو ہڈیاں دخمہ کے مرکزی حصے میں منتقل کی جاتی تھیں، جہاں وہ وقت کے ساتھ قدرتی طور پر تحلیل ہوتی رہتی تھیں۔
دخمہ نشینی کے پیچھے بنیادی مذہبی تصور پاکیزگی کا ہے۔ زرتشتی مذہب میں پاکیزگی کو بہت اہم مقام حاصل ہے اور مردہ جسم کو آلودگی کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے میت کو زمین، پانی اور آگ سے براہِ راست ملنے سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ آگ کو زرتشتی مذہب میں خاص تقدس حاصل ہے، اس لیے روایتی طور پر میت کو جلانے سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ آگ کی پاکیزگی متاثر نہ ہو۔ اسی طرح میت کو زمین میں دفن کرنے سے زمین کے آلودہ ہونے کا تصور بھی موجود ہے۔ دخمہ نشینی اس مذہبی سوچ کے مطابق ایک ایسا طریقہ فراہم کرتی ہے جس میں انسانی جسم کو قدرتی ماحول کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔
اس رسم کا ایک اہم پہلو انسان اور فطرت کے درمیان تعلق بھی ہے۔ دخمہ میں میت کو سورج، ہوا اور قدرتی ماحول کے سپرد کیا جاتا ہے، جس سے یہ تصور سامنے آتا ہے کہ موت کے بعد بھی انسانی جسم قدرت کے ایک بڑے نظام کا حصہ بن جاتا ہے۔ زرتشتی مذہبی فکر میں پاکیزگی اور فطرت کے احترام کو خاص اہمیت حاصل ہے، اور دخمہ نشینی اسی سوچ کی ایک عملی شکل سمجھی جاتی ہے۔برصغیر میں پارسی برادری کی تاریخ کئی صدیوں پر محیط ہے اور پاکستان میں بھی ایک چھوٹی مگر تاریخی پارسی برادری موجود رہی ہے، خصوصاً کراچی میں۔ کراچی میں پارسی برادری کے تاریخی ورثے میں ان کی عبادت گاہوں، عمارتوں اور دیگر مذہبی مقامات کے ساتھ دخمہ سے متعلق روایات بھی شامل رہی ہیں۔ تاہم جدید دور میں دخمہ نشینی کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ شہری آبادی میں اضافہ، ماحولیاتی تبدیلیاں، گدھوں کی تعداد میں کمی اور جدید قانونی و سماجی تقاضوں نے اس قدیم رسم کے تسلسل کو متاثر کیا ہے۔ 
اسی وجہ سے مختلف علاقوں میں زرتشتی برادری کے اندر بھی آخری رسومات کے طریقوں کے حوالے سے نئی بحث سامنے آئی ہے۔آج بھی بعض زرتشتی برادریاں دخمہ نشینی کو اپنی مذہبی شناخت اور قدیم ورثے کا اہم حصہ سمجھتی ہیں، جبکہ بعض مقامات پر عملی مشکلات کے باعث متبادل طریقوں پر غور کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود دخمہ نشینی زرتشتی تہذیب اور مذہبی فکر کی ایک نمایاں علامت ہے۔ یہ رسم ہمیں بتاتی ہے کہ مختلف مذاہب نے زندگی، موت، پاکیزگی اور فطرت کے باہمی تعلق کو اپنے مخصوص عقائد کی روشنی میں سمجھا اور اسی کے مطابق اپنی آخری رسومات تشکیل دیں۔دخمہ نشینی محض ایک قدیم تدفینی رسم نہیں بلکہ زرتشتی مذہب کے اس تصور کی عکاسی بھی کرتی ہے جس میں انسان کی زندگی کے ساتھ ساتھ موت کے بعد بھی فطرت کے احترام اور مقدس عناصر کی پاکیزگی کو اہمیت دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی دخمہ یا Tower of Silence زرتشتی مذہب، پارسی ثقافت اور قدیم مذہبی روایات کے مطالعے میں ایک اہم اور منفرد موضوع سمجھا جاتا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail
Urdu Survey Popup