گھریلوباغبانی

 چھتوں پر سبزیاں اْگانے کا بڑھتا ہوا رجحان
چھتوں پر سبزیاں اْگانے کا بڑھتا ہوا رجحان

آج کے دور میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی، مہنگائی، آلودگی اور محدود جگہ نے شہروں کی زندگی کو چیلنج بنا دیا ہے۔ بڑے شہروں میں کھلی زمین کم ہوتی جا رہی ہے، جبکہ تازہ اور خالص سبزیوں کا حصول بھی مشکل بنتا جا رہا ہے۔ ایسے حالات میں شہری باغبانی ایک مثبت اور مفید رجحان کے طور پر سامنے آئی ہے۔ شہری باغبانی سے مراد شہروں میں گھروں کی چھتوں، بالکونیوں، صحنوں یا خالی جگہوں پر سبزیاں، پھل، پودے اور جڑی بوٹیاں اگانا ہے۔ خاص طور پر چھتوں پر سبزیاں اگانے کا رجحان دن بہ دن مقبول ہو رہا ہے۔
پاکستان کے بڑے شہروں جیسے لاہور، کراچی، اسلام آباد، فیصل آباد اور راولپنڈی میں بہت سے لوگ اپنی چھتوں کو سبز باغات میں تبدیل کر رہے ہیں۔ پہلے زمانے میں لوگ دیہات میں کھیتوں اور باغوں سے جڑے ہوتے تھے، مگر شہری زندگی نے انسان کو قدرت سے دور کر دیا۔ اب شہری باغبانی اس فاصلے کو کم کرنے کا ایک خوبصورت ذریعہ بن رہی ہے۔
چھتوں پر سبزیاں اْگانے کے کئی فائدے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ گھر میں تازہ، صحت مند اور کیمیکل سے پاک سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں۔ بازار میں ملنے والی سبزیوں پر اکثر کیڑے مار ادویات کا استعمال کیا جاتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگر گھر کی چھت پر ٹماٹر، مرچ، دھنیا، پودینہ، پالک، میتھی، بینگن، کریلا یا دیگر سبزیاں اْگائی جائیں تو خاندان کو بہتر خوراک مل سکتی ہے۔دوسرا بڑا فائدہ مالی بچت ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں روزمرہ استعمال کی سبزیاں اگر گھر میں اْگائی جائیں تو اخراجات میں کمی آ سکتی ہے۔ اگرچہ ابتدا میں گملے، مٹی، بیج اور کھاد پر کچھ خرچ آتا ہے، مگر بعد میں یہی شوق فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔
شہری باغبانی ماحول کے لیے بھی مفید ہے۔ پودے فضا کو صاف کرتے ہیں، کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتے ہیں اور آکسیجن پیدا کرتے ہیں۔ شہروں میں آلودگی، دْھواں اور گرمی کا مسئلہ بڑھتا جا رہا ہے۔ چھتوں پر سبز پودے لگانے سے ماحول خوشگوار بنتا ہے اور گرمی میں بھی کمی آ سکتی ہے۔ بہت سی عمارتوں کی چھتوں پر پودے لگانے سے درجہ حرارت کم رکھنے میں مدد ملتی ہے۔اس کے علاوہ شہری باغبانی ذہنی سکون کا ذریعہ بھی ہے۔ مصروف شہری زندگی، شور شرابہ اور ذہنی دباؤ کے دور میں پودوں کی دیکھ بھال انسان کو سکون دیتی ہے۔ صبح یا شام کے وقت چھت پر جا کر پودوں کو پانی دینا، نئی کونپلیں دیکھنا اور فصل تیار ہوتے دیکھنا خوشی اور اطمینان کا سبب بنتا ہے۔
چھتوں پر سبزیاں اْگانے کے لیے بہت زیادہ جگہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ چند گملے، ڈرم، پلاسٹک کی بوتلیں، لکڑی کے کریٹ یا پرانے برتن بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اچھی مٹی، نامیاتی کھاد اور مناسب دھوپ مل جائے تو چھوٹے پیمانے پر بھی اچھی پیداوار حاصل کی جا سکتی ہے۔ آج کل بہت سے لوگ ہائیڈروپونکس اور جدید طریقوں سے بھی سبزیاں اگا رہے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وبا کے دوران شہری باغبانی میں خاص اضافہ دیکھا گیا۔ جب لوگ گھروں تک محدود ہو گئے تو بہت سے افراد نے باغبانی کو شوق اور فائدہ مند سرگرمی کے طور پر اپنایا۔ سوشل میڈیا پر بھی چھتوں کے باغات، کچن گارڈننگ اور سبزی اگانے کے طریقوں سے متعلق ویڈیوز اور صفحات مقبول ہوئے۔تاہم اس رجحان کے ساتھ کچھ چیلنجز بھی ہیں۔ ہر چھت پر وزن برداشت کرنے کی صلاحیت ایک جیسی نہیں ہوتی، اس لیے بھاری گملے رکھنے سے پہلے احتیاط ضروری ہے۔ پانی کی مناسب نکاسی، دھوپ کی مقدار، کیڑوں سے بچاؤ اور وقت کی دستیابی بھی اہم عوامل ہیں۔ بعض لوگ ابتدا میں شوق سے کام شروع کرتے ہیں مگر بعد میں دیکھ بھال نہ ہونے سے پودے خراب ہو جاتے ہیں۔اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ چھوٹے پیمانے سے آغاز کیا جائے۔ پہلے چند آسان سبزیاں اگائی جائیں، جیسے دھنیا، پودینہ، مرچ، پالک یا ٹماٹر۔ تجربہ بڑھنے کے ساتھ ساتھ باغ کو وسیع کیا جا سکتا ہے۔ مقامی زرعی ادارے، یوٹیوب چینلز اور باغبانی ماہرین اس سلسلے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔
حکومت اور بلدیاتی ادارے بھی شہری باغبانی کے فروغ میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر شہریوں کو مفت یا سستے بیج، تربیت، کھاد اور رہنمائی فراہم کی جائے تو ہزاروں گھروں میں سبزیاں اگائی جا سکتی ہیں۔ اسکولوں، کالجوں اور دفاتر میں بھی چھوٹے باغات بنائے جا سکتے ہیں تاکہ نئی نسل میں ماحول دوستی کا شعور پیدا ہو۔مستقبل میں شہری باغبانی خوراک کی کمی، مہنگائی اور ماحولیاتی مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ اگر ہر گھر اپنی ضرورت کی کچھ سبزیاں خود اگانے لگے تو نہ صرف اخراجات کم ہوں گے بلکہ شہروں میں سبزہ بھی بڑھے گا۔ہمیں یہ یاد رکھنا ہوگا کہ شہری باغبانی صرف ایک شوق نہیں بلکہ صحت مند، معاشی اور ماحول دوست زندگی کی علامت ہے۔ چھتوں پر سبزیاں اْگانے کا بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی نشانی ہے کہ شہری لوگ دوبارہ قدرت سے جڑنا چاہتے ہیں۔ اگر اس رجحان کو فروغ دیا جائے تو ہمارے شہر زیادہ خوبصورت، صحت مند اور خود کفیل بن سکتے ہیں۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail