دنیا کے وہ شہر جو زمین کے نیچے آباد ہیں۔
جب بھی کسی شہر کا تصور ذہن میں آتا ہے تو بلند و بالا عمارتیں، مصروف سڑکیں اور روشن بازار نگاہوں کے سامنے آتے ہیں، لیکن دنیا میں ایسے حیرت انگیز شہر بھی موجود ہیں جو زمین کی سطح پر نہیں بلکہ اس کے نیچے آباد ہیں۔ یہ زیرِ زمین شہر انسانی ذہانت، بقا کی جدوجہد اور تعمیراتی مہارت کا ایک ایسا شاہکار ہیں جو آج بھی ماہرینِ آثارِ قدیمہ اور سیاحوں کو حیران کر دیتے ہیں۔ ان شہروں کی تعمیر مختلف ادوار میں مختلف مقاصد کے لیے کی گئی، جن میں دشمنوں سے حفاظت، شدید موسمی حالات سے بچاؤ، مذہبی آزادی اور محفوظ رہائش شامل تھے۔زیرِ زمین شہروں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے۔ قدیم زمانے میں جب جنگیں، حملے اور قدرتی آفات عام تھیں تو لوگ اپنی جان و مال کی حفاظت کے لیے زمین کے اندر پناہ گاہیں تعمیر کرتے تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ پناہ گاہیں مکمل شہروں میں تبدیل ہوگئیں، جہاں رہائش، عبادت، خوراک ذخیرہ کرنے، پانی کی فراہمی اور مویشی رکھنے کے لیے الگ الگ حصے بنائے گئے۔ ان شہروں کی منصوبہ سازی اس قدر عمدہ تھی کہ بعض مقامات پر ہزاروں افراد کئی مہینوں تک زمین کے نیچے رہ سکتے تھے۔
دنیا کا سب سے مشہور زیرِ زمین شہر ”دیرن کویو“ (Derinkuyu) ترکی کے علاقے کیپاڈوکیا میں واقع ہے۔ یہ شہر تقریباً 85 میٹر گہرائی تک پھیلا ہوا ہے اور ماہرین کے مطابق اس میں ایک وقت میں 20 ہزار سے زائد افراد اپنے مویشیوں اور خوراک کے ساتھ رہ سکتے تھے۔ اس شہر میں رہائشی کمرے، عبادت گاہیں، سکول، اناج کے گودام، پانی کے کنویں اور ہوا کی آمد و رفت کے لیے جدید طرز کے وینٹیلیشن شافٹ موجود تھے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس شہر کے بڑے پتھریلے دروازے اندر سے بند کیے جا سکتے تھے، جس سے دشمنوں کا داخل ہونا تقریباً ناممکن ہو جاتا تھا۔
اسی علاقے میں ایک اور زیرِ زمین شہر ”کائماکلی“ (Kaymakli) بھی واقع ہے، جو سرنگوں کے ذریعے دیرن کویو سے منسلک تھا۔ اگرچہ اس کا رقبہ نسبتاً کم ہے، لیکن اس کی تعمیر بھی نہایت منظم انداز میں کی گئی تھی۔ یہاں بھی رہائش، عبادت، خوراک ذخیرہ کرنے اور جانور رکھنے کے لیے الگ حصے موجود تھے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ ان دونوں شہروں کو مختلف ادوار میں رومی حملوں اور مذہبی ظلم و ستم سے بچنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔
صرف ترکی ہی نہیں بلکہ آسٹریلیا کا شہر ”کوبر پیڈی“(Coober Pedy) بھی اپنی منفرد طرزِ زندگی کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 45 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جاتا ہے، اس لیے بہت سے لوگ زمین کے نیچے بنائے گئے گھروں میں رہتے ہیں۔ ان گھروں میں جدید سہولیات، بیڈروم، باورچی خانے، ہوٹل، گرجا گھر اور یہاں تک کہ زیرِ زمین دکانیں بھی موجود ہیں۔ زمین کے اندر رہنے سے درجہ حرارت سال بھر معتدل رہتا ہے، جس سے توانائی کی بھی بچت ہوتی ہے۔فرانس، اٹلی، چین اور تیونس سمیت کئی دیگر ممالک میں بھی زیرِ زمین بستیاں دریافت ہو چکی ہیں۔ بعض مقامات پر یہ قدرتی غاروں کو تراش کر بنائی گئیں، جبکہ کہیں انسانوں نے چٹانوں کو کاٹ کر مکمل رہائشی نظام تشکیل دیا۔ ان شہروں میں پانی کی فراہمی، روشنی اور ہوا کے گزر کا انتظام اس دور کی تعمیراتی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ان شہروں کی سب سے حیران کن خصوصیت ان کا وینٹی لیشن سسٹم ہے۔ اس زمانے میں جدید مشینری یا بجلی موجود نہیں تھی، اس کے باوجود انجینئرنگ اس قدر ترقی یافتہ تھی کہ ہوا دور دراز کمروں تک آسانی سے پہنچ جاتی تھی۔ اسی طرح بارش کے پانی کو محفوظ کرنے، اناج ذخیرہ کرنے اور نکاسیِ آب کے انتظامات بھی نہایت موثر انداز میں کیے گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین آج بھی ان تعمیرات کو قدیم انجینئرنگ کا شاہکار قرار دیتے ہیں۔
آج کے دور میں یہ زیرِ زمین شہر صرف تاریخی آثار نہیں بلکہ اہم سیاحتی مقامات بھی بن چکے ہیں۔ ہر سال لاکھوں سیاح ترکی کے دیرن کویو اور کائماکلی جیسے شہروں کا رخ کرتے ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں کہ صدیوں پہلے لوگ کس طرح زمین کے نیچے ایک مکمل زندگی گزارتے تھے۔ ان مقامات کی تحقیق سے ماہرین کو قدیم تہذیبوں، تعمیراتی فنون اور انسانی بقا کی حکمتِ عملی کو سمجھنے میں بھی مدد مل رہی ہے۔
یہ شہر ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ انسان نے ہر دور میں مشکلات کا مقابلہ عقل، منصوبہ بندی اور محنت سے کیا ہے۔ شدید موسم ہو، دشمنوں کے حملے ہوں یا مذہبی آزادی کا مسئلہ، انسان نے اپنے لیے ایسے حیرت انگیز حل تلاش کیے جو آج بھی دنیا کو حیران کرتے ہیں۔ زیرِ زمین شہر اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ انسانی ذہانت کی کوئی حد نہیں، اور جب حالات سخت ہوں تو انسان ناممکن کو بھی ممکن بنا سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شہر صرف پتھروں اور سرنگوں کا مجموعہ نہیں بلکہ انسانی عزم، تخلیقی صلاحیت اور بقا کی لازوال داستان ہیں، جو آنے والی نسلوں کو بھی حیران کرتی رہیں گی۔
