الیاس نبی (بائبل مقدس کے عہدِ عتیق کے عظیم ترین نبی)
حضرت الیاس نبی بائبل کے عہدِ قدیم کے عظیم ترین انبیاء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کا ذکر کتابِ ملوک میں تفصیل سے ملتا ہے۔ الیاس نبی کو خدا نے اسرائیل میں اْس وقت بھیجا جب قوم بت پرستی، ناانصافی اور روحانی گمراہی میں مبتلا ہو چکی تھی۔ بادشاہ اخی اب (Ahab) اور اْس کی بیوی ایزبل (Jezebel) بعل دیوتا کی عبادت کو فروغ دے رہے تھے۔ الیاس نبی نے بے خوف ہو کر اعلان کیا کہ صرف خداوند ہی سچا خدا ہے۔ انہوں نے بادشاہ اخی اب کے سامنے فرمایا کہ جب تک خدا کا حکم نہ ہوگا، بارش نہیں ہوگی۔ (1 سلاطین 17:1)۔ اس اعلان کے بعد ملک میں سخت قحط پڑ گیا، جو قوم کے لیے تنبیہ تھا تاکہ وہ توبہ کریں۔
قحط کے دوران خدا نے الیاس نبی کی حفاظت کی۔ پہلے کوّے ان کے لیے روٹی اور گوشت لاتے تھے، اور بعد میں صارفت کی ایک بیوہ عورت کے گھر اْن کا آٹا اور تیل ختم نہ ہوا۔ (1 سلاطین 17:8-16)۔ یہ واقعہ ہمیں سیکھاتا ہے کہ خدا اپنے وفادار بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔
جب اْس بیوہ کا بیٹا مر گیا تو الیاس نبی نے خدا سے دْعا کی اور بچہ زندہ ہو گیا۔ (1 سلاطین 17:22)۔ یہ بائبل کا پہلا واقعہ ہے جہاں کسی مردے کے زندہ ہونے کا ذکر ملتا ہے، جو خدا کی قدرت کی عظیم نشانی ہے۔
الیاس نبی کی زندگی کا سب سے مشہور واقعہ کوہِ کرمل پر پیش آیا۔ انہوں نے بعل کے 450 نبیوں کو چیلنج دیا کہ جس خدا کی طرف سے آگ نازل ہو وہی سچا خدا مانا جائے۔ بعل کے نبیوں نے بہت پکارا مگر کوئی جواب نہ ملا۔ الیاس نبی نے دعا کی تو آسمان سے آگ نازل ہوئی اور قربانی کو جلا گئی۔
(1 سلاطین 18:36-39)۔ تب ساری قوم پکار اٹھی:خداوند ہی خدا ہے!
ایزبل کی دھمکی کے بعد الیاس نبی خوفزدہ ہو کر بیابان میں چلے گئے اور مایوس ہو گئے۔ مگر خدا نے انہیں کوہِ حوریب پر نہ آندھی میں، نہ زلزلے میں اور نہ آگ میں، بلکہ ایک ہلکی اور دھیمی آواز میں مخاطب کیا۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ خدا اکثر خاموشی میں ہمارے دل سے بات کرتا ہے۔
الیاس نبی کو موت دیکھے بغیر آسمان پر اْٹھا لیا گیا۔ آگ کا رتھ اور گھوڑے ظاہر ہوئے اور ایلیاہ نبی کو آسمان کی طرف لے گئے۔ (2 سلاطین 2:11)۔ ان کے شاگرد الیشع نے اْن کی خدمت اور نبوت کو آگے بڑھایا۔
ایلیاہ نبی کی زندگی ہمیں یہ سکھاتی ہے:
* خدا پر بھروسا رکھنے والا کبھی تنہا نہیں ہوتا۔
* حق کے لیے کھڑا ہونا ہمیشہ آسان نہیں مگر ضروری ہے۔
* خدا ہماری کمزوری میں بھی ہمیں چھوڑتا نہیں۔
* خدا کی خاموش آواز شور سے زیادہ طاقتور ہوتی ہے۔
الیاس نبی کی زندگی ایمان، جرأت اور وفاداری کی زندہ مثال ہے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ چاہے زمانہ کتنا ہی بگڑ جائے، خدا کے سچے بندے کی آواز کبھی خاموش نہیں ہوتی۔ آج بھی ان کی زندگی ہر مومن کو یہ پیغام دیتی ہے:خداوند ہی خدا ہے، اور اس کے سوا کوئی نہیں۔