بے بسی کے لمحوں میں خدا کے رحم کا احساس
ہسپتالوں میں کچھ ایسا ہوتا ہے جو انسان کو اپنی حقیقت سے روشناس کروا دیتا ہے۔ جب آپ اپنی صحت اور زندگی دوسروں کے ہاتھوں میں سونپنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جب ہاتھوں میں سوئیاں لگی ہوں، سینے پر تاریں جڑی ہوں، اور باتھ روم تک جانے کے لیے بھی نرسوں کی مدد درکار ہو، تب انسان اپنی بے بسی کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔
ایسے لمحات میں انسان نہ صرف اپنی انسانیت کو پہچانتا ہے بلکہ اپنے اِردگرد موجود دوسرے مریضوں کی انسانیت کو بھی محسوس کرتا ہے۔ زندگی میں چاہے ہم نے کتنی ہی کامیابیاں حاصل کی ہوں یا کسی بھی مقام و مرتبے تک پہنچ گئے ہوں، حقیقت یہی ہے کہ ہم سب کمزور جسم اور خون سے بنے انسان ہیں۔
گزشتہ دو برسوں کے دوران، سینے کے درد اور ہاتھ پاؤں کی کمزوری جیسے مسائل کے باعث ہسپتال میں کئی بار داخل ہونا پڑا۔ خدا کا شکر ہے کہ تمام ٹیسٹوں نے ثابت کیا کہ یہ بیماریاں سنگین نوعیت کی نہیں تھیں۔ لیکن ان تجربات نے مجھے بار بار یہ یاد دلایا کہ آخرکار ہم سب ایک ہی انسانی خاندان کا حصہ ہیں۔گزشتہ سال جب سینے کے درد کی وجہ سے مجھے ایک مشترکہ وارڈ میں رکھا گیا (جو بعد میں معدے کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہونے والا درد ثابت ہوا)، تو میرے بستر کے ساتھ ایک ایسی خاتون موجود تھیں جو بظاہر خصوصی ضروریات کی حامل تھیں۔ وہ کبھی کبھی روتی اور چیختی تھیں اور دوائی کھانے سے انکار کر دیتی تھیں۔
ایک موقع پر، جب نرسیں اْن کی دیکھ بھال کر رہی تھیں، تو وہ اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں۔ کمرے میں بدبو پھیل گئی اور نرسوں نے فوراً پردہ کھینچ کر انہیں صاف کیا۔ ایک میل نرس جلدی سے ایئر فریشنر لے آیا تاکہ ماحول کو بہتر بنایا جا سکے۔اس وقت میں رات کا کھانا کھا رہا تھا اور میں نے کوشش کی کہ اس صورت حال سے پریشان نہ ہوں۔ نرسوں کی تیزی، مہارت اور محبت بھری خدمت نے مجھے بہت متاثر کیا۔ میرا اْن کے لیے احترام مزید بڑھ گیا کیونکہ مجھے احساس ہوا کہ شاید وہ روزانہ اسی طرح کے حالات کا سامنا کرتی ہیں۔
ایک اور موقع پر، جب میں بستر ملنے کے انتظار میں ایک ہولڈنگ ایریا میں موجود تھا، ایک عمر رسیدہ خاتون، جو غالباً یادداشت کی بیماری (ڈیمنشیا) میں مبتلا تھیں، درد سے کراہ رہی تھیں اور بلند آواز میں گھر جانے کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ ڈاکٹر اور نرسیں نہایت صبر اور شفقت سے اْن سے بات کر رہی تھیں اور اْن کے خوف کو کم کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔
ان واقعات نے مجھے دوسروں کے دکھوں اور تکلیفوں کی گہرائی دکھائی، جنہیں شاید میں کبھی نہ دیکھ پاتا اگر میں خود ہسپتال میں اْن کے ساتھ نہ ہوتا۔ ان تجربات نے مجھے ہمدردی کا ایک نیا سبق سکھایا۔
ہسپتال میں ایک اور عجیب اور خوبصورت چیز مریضوں کے درمیان پیدا ہونے والی رفاقت ہے۔ جب ہم یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہماری صحت ڈاکٹرز اور اْن کی ٹیم کے ہاتھوں میں ہے، اور ہمارے پاس انتظار اور اْمید کے سوا کوئی راستہ نہیں، تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم سب ایک ہی سفر کے ساتھی ہیں۔ایک ایسے سفر کے، جس کا مقصد بہتر صحت اور زندگی کی بحالی ہے۔ایسے لمحوں میں خود انحصاری اور غرور کے نقاب اْتر جاتے ہیں، اور ہم ایک دوسرے کو محض انسانوں کے طور پر دیکھنے لگتے ہیں، جو زندگی کے ایک ہی راستے پر گامزن ہیں۔کبھی کبھی مجھے محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہماری بے بسی کے انہی لمحوں میں خدا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم کون ہیں؟اس کے کمزور اور محتاج بچے، جو مکمل طور پر اس کی محبت، مہربانی اور عنایت پر انحصار کرتے ہیں۔انہی لمحوں میں انسان دوسروں سے اپنی صحت یابی اور شفا کے لیے دْعا کی درخواست بھی کرتا ہے، اور یوں اسے احساس ہوتا ہے کہ اسے ایک برادری، ایک جماعت اور دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہے۔ میرا یقین ہے کہ جب ہم اپنی کمزوریاں ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں تو حقیقی تعلقات اور مضبوط رشتے وجود میں آتے ہیں۔
مجھے امریکی جیزوٹ کاہن اور مصنف، فادر جان پال، کا ایک قول یاد آتا ہے:جن لوگوں کے ساتھ ہم ہنسے ہوں، انہیں بھلانا آسان ہوتا ہے، لیکن جن لوگوں کے ساتھ ہم روئے ہوں، انہیں کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
کوئی بھی ہسپتال جانا پسند نہیں کرتا۔ لیکن ایک مسیحی ہونے کے ناطے، میں اب یہ سمجھنے لگا ہوں کہ شاید یہ بھی خدا کے طریقوں میں سے ایک ہے، جس کے ذریعے وہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم ناقابلِ شکست نہیں ہیں، ہمیں اپنی ایمانی برادری اور ایک دوسرے کی مدد کی ضرورت ہے، اور یہ کہ اس دنیا میں ہماری زندگی محض ایک سفر ہے۔ایک ایسے سفر کی طرف جو ہماری حقیقی منزل اور حقیقی گھر کی جانب لے جاتا ہے۔