بسنت

بسنت محض ایک دن یا ایک کھیل کا نام نہیں، بلکہ یہ برصغیر کی صدیوں پرانی تہذیبی روایت ہے جو موسمِ بہار کی آمد کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔ یہ تہوار نہ صرف پنجاب بلکہ پورے برصغیر میں مختلف ناموں اور رنگوں کے ساتھ منایا جاتا رہا ہے، جہاں فطرت کی بیداری کو انسانی خوشی میں ڈھالا جاتا تھا۔بسنت کا لفظ سنسکرت کے لفظ ”وسنت‘‘سے نکلا ہے جس کے معنی بہار کے ہیں۔ قدیم زمانے میں جب سردی کی شدت کم ہوتی، کھیتوں میں سبزہ لوٹ آتا اور سرسوں کے پیلے پھول کھلتے، تو اس قدرتی تبدیلی کو جشن کی صورت میں منایا جاتا تھا۔ زرعی معاشروں میں بہار نئی زندگی، نئی اْمید اور خوشحالی کی علامت سمجھی جاتی تھی۔
برصغیر میں بسنت پنچمی ہندو کیلنڈر کے مطابق ماگھ کے مہینے کے پانچویں دن منائی جاتی تھی۔ ہندو روایت میں یہ دن علم و حکمت کی دیوی سرسوتی سے منسوب ہے، جس پر عبادات، تعلیمی تقریبات اور پیلے لباس کا اہتمام کیا جاتا تھا۔وقت کے ساتھ یہ تہوار مذہبی دائرے سے نکل کر ایک مشترکہ ثقافتی جشن میں تبدیل ہو گیا۔ مسلمان، سکھ اور دیگر برادریاں بھی اِسے بہار کی آمد کی خوشی کے طور پر منانے لگیں۔ صوفیائے کرام نے بھی اس تہوار کو عوامی رنگ دیا، جس سے بسنت ایک سیکولر تہذیبی روایت بن گئی۔
بسنت کو مغل دور میں خاص سرپرستی حاصل رہی۔ شہنشاہ اکبر اور جہانگیر کے عہد میں یہ تہوار شاہی درباروں کا حصہ بن گیا۔ تاریخی حوالوں کے مطابق مغل بادشاہ اور امرا پیلے لباس پہن کر بسنت کے جشن میں شریک ہوتے تھے۔لکھنؤ، دہلی اور لاہور جیسے علمی و ثقافتی مراکز میں بسنت نے ایک ادبی اور صوفی رنگ اختیار کیا۔ صوفی شاعر امیر خسرو کی شاعری میں بھی بہار، سرسوں اور رنگوں کا ذکر ملتا ہے۔
اگرچہ پتنگ کی ایجاد چین میں ہوئی، مگر برصغیر میں اسے مغل دور میں مقبولیت ملی۔ ابتدا میں پتنگ بازی اشرافیہ کا شوق تھی، مگر رفتہ رفتہ یہ عوامی کھیل بن گئی۔ بسنت کے دن آسمان رنگ برنگی پتنگوں سے بھر جاتا اور یہ منظر تہوار کی پہچان بن گیا۔پنجاب میں خصوصاً لاہور میں بسنت اور پتنگ بازی لازم و ملزوم بن گئیں۔ سکھ دور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بسنت کو سرکاری تہوار کا درجہ دیا، جس کے بعد یہ پورے پنجاب میں شان و شوکت سے منائی جانے لگی۔

پاکستان بننے کے بعد بھی بسنت کی روایت ختم نہ ہوئی۔ لاہور اس تہوار کا مرکز بن گیا اور 1980 سے 2000 کے درمیان کا دور بسنت کا سنہری زمانہ کہلایا۔ اس عرصے میں بسنت ایک باقاعدہ فیسٹیول بن گئی جس سے پتنگ سازی، سیاحت، ہوٹلنگ اور فوڈ انڈسٹری کو زبردست فروغ ملا۔مگر وقت کے ساتھ مقابلہ بازی، کیمیائی ڈور، ہوائی فائرنگ اور حفاظتی غفلت نے اس خوبصورت تہوار کو خطرناک بنا دیا۔ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد عدالتی مداخلت ہوئی اور بالآخر پنجاب میں پتنگ بازی اور بسنت پر پابندی لگا دی گئی۔
2026میں بسنت کی واپسی یقینا ایک نیا باب ہے۔25سال کے طویل عر صے کے بعد اب حکومتِ پنجاب نے سخت قواعد و ضوابط کے تحت بسنت کو دوبارہ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بار توجہ پتنگ بازی سے زیادہ ثقافتی میلوں، موسیقی، فوڈ فیسٹیولز اور محفوظ سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ کیمیائی ڈور، غیر قانونی پتنگوں اور خطرناک سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔بسنت دراصل ہماری مشترکہ ثقافت، موسموں سے جڑے احساس اور اجتماعی خوشی کی علامت ہے۔ اگر اسے ذمہ داری، نظم و ضبط اور انسانی جان کے احترام کے ساتھ منایا جائے تو یہ تہوار ایک بار پھر خوشیوں، رنگوں اور ہم آہنگی کا پیغام بن سکتا ہے۔
 

Daily Program

Livesteam thumbnail