محبت کا خلا
انسان کی زندگی میں سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ رشتے اور تعلقات کی گہرائی کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا۔ چاہے ہم قانون پڑھیں، تاریخ کے صفحات پلٹیں یا فلسفہ اور ادب میں غور کریں، ایک بات ہر دور میں واضح ہے کہ انسان کو انسان کی جدائی کا غم سب سے زیادہ نڈھال کر دیتا ہے۔
انسان کی زندگی میں تعلقات نہ صرف جذبات کا محور ہوتے ہیں بلکہ روحانی اور نفسیاتی سکون کا بھی ذریعہ ہیں۔ ہم اکثر کامیابی، علم اور دولت کو زندگی کی سب سے بڑی چیز سمجھتے ہیں، مگر جب دل کا تعلق ٹوٹتا ہے یا کوئی عزیز ہمارے قریب نہیں ہوتا، تو یہی دولت اور علم بھی ہمیں تسلی نہیں دے پاتے۔ انسانی رشتے وہ خزانہ ہیں جو کسی اور چیز سے پورا نہیں ہو سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے: ''There is no human substitute''۔
تاریخ کی مثالیں اس بات کی گواہ ہیں۔ حضرت یعقوب کی کہانی لیجئے۔ یوسف کے بچھڑنے کے بعد یعقوب کا غم اور دْکھ اتنا شدید تھا کہ کوئی دنیاوی چیز یا دولت، کوئی عزیز یا دوست، اْس خالی پن کو پْرنہیں کر سکی۔ اگر واقعی کوئی نعم البدل ہوتا تو شاید خداوند یعقوب کو اس دْکھ سے بچانے کے لیے کوئی دوسرا یوسف دے دیتا، مگر حقیقت یہ ہے کہ رشتوں کی یہ گہرائی ناقابلِ تلافی ہوتی ہے۔
انسان کی فطرت میں یہ بات رچی بسی ہے کہ ہم اپنے ہمسفر، دوست، یا عزیز کے بغیر ادھورا محسوس کرتے ہیں۔ چاہے وقت گزر جائے، علم اور تجربہ بڑھیں، انسان کی روح میں وہ خلا ہمیشہ محسوس ہوتا ہے جو کسی عزیز کی جدائی سے پیدا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کچھ غم اتنے گہرے اور نڈھال کرنے والے ہوتے ہیں کہ دنیا کی ہر خوشی اور ہر تسلی اس کے سامنے ادھوری لگتی ہے۔
یہ جدائی ہمیں انسان ہونے کا شعور بھی دیتی ہے۔ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان صرف معاشرتی وجود نہیں بلکہ ایک جذباتی اور روحانی وجود بھی ہے جس کی تکمیل دوسرے انسانوں کے تعلقات سے ہوتی ہے۔ ہر محبت، ہر رشتہ، ہر قربت اس بات کا ثبوت ہے کہ انسان کو انسان کی ضرورت ہے اور یہ ضرورت کوئی چیز پورا نہیں کر سکتی۔
اس لئے اپنے عزیزوں کی قدر کریں، رشتوں کو مضبوط بنائیں اور یاد رکھیں کہ انسان کے لیے سب سے بڑی نعمت وہی رشتے ہیں جو دل کو سکون اور روح کو خوشی دیتے ہیں۔ جدائی کا درد اس بات کا ثبوت ہے کہ محبت اور رشتے انسان کی زندگی میں کتنے لازمی ہیں۔